بلوچ نیشنل موومنٹ کے سیکریٹری جنرل دل مراد نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کابل ہسپتال پر بمباری انتہائی شرمناک اور انسانیت سوز ہے۔ افغان سرزمین پر پاکستانی فوجی جارحیت افغانستان کی آزادی پر براہِ راست حملہ، سنگین جنگی جرائم اور قابلِ مذمت ہے۔ بلوچ نیشنل موومنٹ جنگ کی اس مشکل گھڑی میں غیور افغان قوم کے ساتھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم اور افغانستان کے عوام کے درمیان رشتہ محض ہمسائیگی کا نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ ہے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم مشکل کی ہر گھڑی میں ایک دوسرے کے دست و بازو بنے ہیں۔ ہم روایات کے امین ہیں اور آج بھی بلوچ اپنے برادر اور غیور ہمسایہ کے ساتھ ہیں۔
دل مراد بلوچ نے کہا کہ پاکستان اپنی عسکری طاقت کی زعم میں یہ بھول بیٹھا ہے کہ اس نے اس افغانستان پر حملہ کردیا ہے جس نے سوویت یونین اور حال ہی میں دنیا کی سپر پاور امریکہ اور دنیا کی سب سے بڑی فوجی اتحاد نیٹو کو شکست دی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ان حملوں کی ابتدا چند بے بنیاد عذر کی بنیاد پر کی، لیکن دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کا مسئلہ ڈیورنڈ لائن اور آزاد و خودمختار افغانستان یا افغان اقتدار اعلیٰ ہے۔ ڈیورنڈ لائن قیام پاکستان سے پہلے کا مسئلہ ہے جس کے تین بڑے فریق ہیں یعنی پاکستان، افغانستان اور بلوچ۔ اسے کوئی بھی ایک فریق اپنی منشا یا مفاد کے مطابق حل نہیں کر سکتا۔ افغانستان میں مختلف طرز حکومتیں آئیں، بادشاہت، کمیونزم، مذہبی اور صدارتی نظام تک، ہزاروں اختلافات کے باوجود تمام حکومتیں ڈیورنڈ لائن کے نقطے پر متفق تھیں۔ اس لیے یہ مسئلہ زندہ رہا۔
ابھی بھی بیس سالوں تک پاکستان کرایہ دار کی طرح استعمال ہو کر بھی امریکہ و نیٹو سے منظور نظر کے ذریعے ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ حل نہیں کر سکا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قومی وجودی مسائل حکومت نہیں بلکہ قوم حل کرتی ہے، اور کوئی بھی قوم اپنی موجودگی کا ایک حصہ کسی دشمن قصائی کے ہاتھوں از خود کاٹنے کی اجازت نہیں دیتی، اور یہی افغان قوم کر رہا ہے۔
دل مراد بلوچ نے کہا کہ پاکستان کا دوسرا بڑا مسئلہ آزاد و خودمختار افغانستان ہے۔ سوویت یونین کے خلاف مغربی اتحاد کا حصہ بننے کا فیصلہ ہو یا امریکہ و نیٹو کے ساتھ، پاکستان ایک جانب کرایے کے پیسے سے اپنی معیشت چلاتا رہا اور دوسری طرف افغانستان کو تباہ و برباد کرنے میں شامل رہا تاکہ افغانستان بطور ریاست مستحکم ہو کر آزادانہ طور پر اپنی قومی تقدیر اور قومی مفادات کی تعمیر نہ کر سکے۔ عشروں تک پاکستان نے افغانستان کو اسٹریٹیجک ڈپتھ کے طور پر اپنے عسکری ایجنڈے میں سرفہرست رکھا تاکہ نام نہاد ڈیورنڈ لائن سے کوئی خطرہ نہ ہو اور افغانستان کی بالادستی پنجابی مفادات کے زیرنگین ہو۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان نے پاکستان کی یہ دونوں عزائم خاک میں ملا دیے ہیں۔ آج کا افغانستان نہ پاکستانی اسٹریٹیجک ڈپتھ کا حامی ہے اور نہ ہی ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کرتا ہے۔ اس لیے پاکستان خطے کی کشیدگی اور مغرب کے مہرے کی حیثیت سے مواقع سے فائدہ اٹھا کر افغانستان پر حملہ آور ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہتھیار پھینکنا پنجابی کے حصے میں آیا ہے، افغانستان کے نہیں، اور یہ تاریخ کسی بھی وقت دہرائی جا سکتی ہے۔