آبنائے ہرمز میں پراجیکٹ فریڈم شروع کرنے کا اعلان، 15 ہزار فوجی تعینات کیے جائیں گے، امریکا

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی صبح سے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو آزاد کرانے کی کوشش شروع کرنے کے لیے ’پراجیکٹ فریڈم‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ کسی بھی طرح مداخلت کی گئی تو ’بدقسمتی سے‘ اس سے طاقت کے ذریعے نمٹا جائے گا۔

سوشل میڈیا پوسٹ پر انھوں نے کہا کہ انھیں اس بات کا علم ہے کہ ان کے نمائندے ایران کے ساتھ ’انتہائی مثبت‘ بات چیت کر رہے ہیں، اور یہ مذاکرات سب کے لیے کسی مثبت پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ عمل، جسے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیا گیا ہے، پیر کی صبح سے شروع ہوگا۔‘

امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک نے امریکہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اُن کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت نکالنے میں مدد فراہم کرے۔ یہ وہ ممالک ہیں جن کا مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع سے کوئی تعلق نہیں۔

امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر بتایا کہ ایران، مشرقِ وسطیٰ اور خود امریکہ کے مفاد میں اِن ممالک کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ امریکہ اُن کے جہازوں کو محدود آبی گزرگاہوں سے محفوظ طریقے سے نکالنے میں رہنمائی فراہم کرے گا تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔

صدر ٹرمپ کے مطابق انھوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ متعلقہ ممالک کو مطلع کریں کہ امریکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں اور اُن کے عملے کی محفوظ روانگی کے لیے ’بہترین کوششیں‘ کرے گا۔

صدر ٹرمپ کے مطابق متعلقہ ممالک نے بتایا ہے کہ یہ جہاز اُس وقت تک علاقے میں واپس نہیں آئیں گے جب تک اسے جہاز رانی کے لیے محفوظ قرار نہیں دیا جاتا۔

صدر ٹرمپ کے بیان کے مطابق جہازوں کی یہ نقل و حرکت اُن افراد، کمپنیوں اور ممالک کی مدد کے لیے ہے جنھوں نے ’’بالکل کوئی غلط کام نہیں کیا‘‘ اور جو اس صورتحال میں محض حالات کا شکار ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو امریکہ، مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور خصوصاً ایران کی جانب سے ایک ’انسانی ہمدردی‘ کا قدم قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر جاری ٹرمپ بیان کے مطابق یہ تمام جہاز اُن خطوں سے تعلق رکھتے ہیں جو اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جاری صورتحال میں کسی بھی طور ملوث نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی جہازوں پر خوراک اور دیگر ضروری سامان کی کمی ہے جو بڑے عملے کے لیے صحت مند اور صاف ستھرے ماحول میں جہاز پر قیام کے لیے لازم ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام گزشتہ کئی ماہ کے دوران شدید تنازع میں الجھے فریقوں کی جانب سے خیرسگالی کے اظہار میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر کسی بھی طرح اس انسانی ہمدردی کے عمل میں مداخلت کی گئی تو ’بدقسمتی سے‘ اس سے طاقت کے ذریعے نمٹا جائے گا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام نے امریکی صدر کے اعلان کردہ ’پراجیکٹ فریڈم‘ کی حمایت سے متعلق تازہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج چار مئی سے اس منصوبے کی معاونت کا آغاز کریں گی، جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازرانی کی آمدورفت کو آزادنہ طور پر بحال کرنا ہے۔

اتوار کو جاری بیان میں سینٹ کام نے بتایا کہ اس مشن کے تحت 15 ہزار اہلکار، گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز اور 100 سے زائد طیارے تعینات کیے جائیں گے۔

سینٹ کام کے مطابق ’دنیا بھر کی سمندری راستے سے ہونے والی تیل کی تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اور ایندھن و کھاد کی بڑی مقدار آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل کی جاتی ہے۔‘

سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ ’ہماری جانب سے اس دفاعی مشن کی حمایت علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے جب کہ ہم بحری ناکہ بندی کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’آبنائے ہرمز میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔‘

Share This Article