بلوچستان لبریشن فرنٹ ( بی ایل ایف)کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں خاران، واشک، آواران ،کیچ اور مستونک میں 10 مختلف کارروائیوں میں 10 فوجی اور 4 ریاستی آلہ کار ہلاک کی ذمہ داری قبول کرلی ہے جبکہ ان کارروائیوں میں اہلکاروں کی اسلحات ضبط اور نگرانی کے کیمرہ بھی تباہ کئے۔
ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 3 مئی 2026 کو خاران شہر میں گزی روڈ پر قائم ایف سی چوکی کو راکٹ لانچر اور گرنیڈ لانچروں سے نشانہ بنایا۔ حملے کے دوران داغے گئے گولے چوکی کے اندر گرے، جس کے نتیجے میں قابض فورسز کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ حملے کے بعد حواس باختہ فورسز نے گردونواح میں عام آبادی پر اندھا دھند فائرنگ کی اور کواڈ کاپٹروں کے ذریعے سرمچاروں کا پیچھا کرنے کی کوشش کی، تاہم شہری گوریلا حکمت عملی سے لیس سرمچار بحفاظت اپنے محفوظ ٹھکانوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے 2 مئی 2026 کو واشک کے علاقے ناگ، گراڑی کے مقام پر ایک انٹیلیجنس بیسڈ کامیاب آپریشن کے دوران قابض ریاست کے آلہ کارمسلح جتھے (ڈیتھ اسکواڈ) کے دو کارندوں امان اللّہ ولد جمعہ سکنہ واشک، گریشہ، اور سجاد ولد غلام قادر سکنہ پتک، شیراز کو حملے میں نشانہ بناکر ہلاک کردیا۔
ترجمان نے کہا کہ تنظیم کے انٹیلی جنس ونگ کو مستند اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ قابض پاکستانی فوج کی سرپرستی میں سرگرمِ عمل مذکورہ کارندے شاہراہ پر عارضی ناکہ لگا کر گاڑیوں سے زبردستی بھتہ وصول کر رہے ہیں۔ اس اطلاع پر سرمچاروں کا ایک خصوصی دستہ فوری حرکت میں آیا، اور جائے وقوعہ پر پہنچ کر ان آلہ کاروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دشمن کے دونوں کرایہ کے کارندے موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ سرمچاروں نے مذکورہ ہلاک کارندوں کے قبضے سے 2 عدد کلاشنکوف اور ایک موٹر سائیکل برآمد کر کے اپنے قبضے میں لے کر ضبط کرلی۔
یاد رہے حالیہ دنوں میں ناگ، گراڑی کے مقام پر اس نوعیت کی یہ بی ایل ایف کی دوسری کارروائی ہے۔ اس سے قبل 17 مارچ 2026 کو بھی بی ایل ایف کے سرمچاروں نے انٹیلیجنس اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے اسی مقام پر سردارزادہ علی حیدر محمد حسنی کی سرپرستی میں سرگرم سرور نامی کارندے کے گروہ کو اس وقت گھیرے میں لے کر نشانہ بنایا تھا جس وقت وہ شاہراہ پر بھتہ خوری میں مصروف تھے۔ مذکوہ کاروائی میں سرمچاروں نے کہور عرف منان سمیت تین کارندوں کو ہلاک کر دیا تھا، جبکہ ایک کارندہ چاکر ولد شیر محمد کو گرفتار کیا گیا تھا جو اب تک تنظیم کی تحویل میں ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے ایک اور کاروائی میں 29 اپریل 2026 کو آواران کے علاقے تیرتیج میں قائم پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ پر مربوط حملہ کیا۔ حملے کا آغاز اسنائپر رائفل سے کیا گیا، جس کی زد میں آ کر کیمپ کی حفاظت پر مامور ایک فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ اسنائیپر حملے کے فوراً بعد، سرمچاروں نے ایل ایم جی اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے کیمپ کو نشانہ بنایا۔ اس مربوط حملے کے نتیجے میں قابض فوج کو مزید جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا اور کیمپ کے اندر موجود تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ اسی تسلسل میں سرمچاروں نے تیرتیج کوٹوری کے مقام پر پاکستانی فوج کے ایک قافلے، اور سڑک کی تعمیر میں مصروف کمپنی کو سیکیورٹی فراہم کرنے والے اہلکاروں پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ اس کاروائی میں بھی پہلے اسنائپر رائفل سے ایک اہلکار کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا، جس کے بعد وہاں موجود دیگر اہلکاروں پر ایل ایم جی اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے انھیں نشانہ بنایا۔ اس حملے میں مزید ایک اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے 28 اپریل 2026 کو آواران کے علاقے کولواہ میں، گیشکور، زیک کے مقام پر قائم قابض پاکستانی فوج کی چوکی کو حملے میں نشانہ بنایا۔ حملے کے آغاز میں سرمچاروں نے اسنائپر رائفل سے چوکی پر تعینات ایک اہلکار کو درست نشانہ بنا کر موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ اسنائیپر حملے کے فوراً بعد، پہلے سے پوزیشنز سنبھالے ہوئے سرمچاروں نے چوکی پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں قابض پاکستانی فوج کو مزید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا اور ان کا دفاعی مورچہ بری طرح متاثر ہوا۔
میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 27 اپریل 2026 کو مستونگ کیڈٹ کالج چیک پوسٹ پر تعینات اہلکاروں پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس کارروائی میں قابض فوج کے دو اہلکار موقع پر ہلاک ہوئے، جس کے بعد سرمچاروں نے شاہراہ پر تزویراتی ناکہ بندی کر کے دشمن کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور کاروائی میں 27 اپریل 2026 کو سرمچاروں نے مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں مکہ ہوٹل کے مقام پر مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے اسے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اس دوران شاہراہ کی حفاظت پر مامور عزیز چیک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں پوسٹ پر موجود چار فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ 27 اپریل 2026 کو ہی کیچ کے علاقے دشت میں تلار اور بیری کے درمیان قائم قابض پاکستانی فوج کی ایک چوکی کو سرمچاروں نے حملے میں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے فوجی چوکی پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغے، جو اپنے ہدف پر جا لگے۔ اس دوران چوکی پر نصب جدید جاسوسی کیمروں کو بھی فائرنگ کر کے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، تاکہ دشمن کا نگرانی کا نظام معطل کیا جا سکے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
بی ایل ایف ترجمان نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 24 فروری 2026 کو تمپ کے علاقے کونشقلات میں قابض ریاست کے آلہ کار اور قومی مجرم خدا بخش عرف واجو ولد اسماعیل ساکن کونشقلات کو حراست میں لیا۔ مذکورہ شخص دشمن فوج اور اس کے خفیہ اداروں کے لیے مخبری، بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں اور ٹارگٹ کلنگ میں براہِ راست ملوث تھا۔ دورانِ حراست تفتیش میں اس نے اپنے تمام سنگین جرائم کا اعتراف کیا۔ اعترافِ جرم اور ناقابلِ تردید ثبوتوں کی بنیاد پر تنظیم نے اسے سزائے موت سنائی، جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے 6 مارچ کو اسے ہلاک کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی کے میں سرمچاروں نے 14 مارچ 2026 کو تمپ کے علاقے کونشقلات ہی سے ایک اور مجرم عادل ولد رحمدل سکنہ کو نشقلات کو گرفتار کیا۔ دورانِ تفتیش مذکورہ شخص نے بھی ریاست کیلئے سرمچاروں اور آزادی پسند سیاسی کارکنوں کی مخبری کرنے، اور تحریکِ آزادی کے خلاف دشمن کے پے رول پر کام کرنے کا اعتراف کیا۔ تنظیم کے وضع کردہ قوانین کے تحت جرم ثابت ہونے پر اسے بھی 27 مارچ کو فائرنگ کر کے انجام تک پہنچا دیا گیا۔
آخر میں ترجمان میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ خاران واشک، آواران، کیچ اور مستونگ میں ہونے والی ان تمام 10 مختلف کارروائیوں میں 10 فوجی اہلکاروں اور 4 آلہ کاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔