ایران کے خلاف جنگ وقت سے پہلے ’تقریباً مکمل‘ ہو چکی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

ایڈمن
ایڈمن
9 Min Read

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کے امریکی میڈیا پارٹنر سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ جنگ تقریباً مکمل ہو چکی ہے، بڑی حد تک۔‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ’شیڈول سے بہت آگے ہے‘ اور ایران کے بارے میں دعویٰ کیا کہ وہاں ’کوئی بحریہ نہیں، کوئی مواصلاتی نظام نہیں، کوئی فضائیہ نہیں۔‘

اور ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے میزائل ’صرف ادھر ادھر بکھرے ہوئے رہ گئے ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’میرے خیال سے تو جنگ ختم ہونے کو ہے۔‘

اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے اشارہ دیا تھا کہ یہ جنگ جو اب اپنے دسویں دن میں داخل ہو چکی ہے ایک ماہ سے زیادہ جاری رہ سکتی ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس ایران میں دیگر اہداف بھی موجود ہیں جنہیں’صرف ایک دن میں‘ نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے، اس کے بعد ہم ان پر حملہ کریں گے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ اہداف نشانہ بنانا بہت آسان ہیں، لیکن ان مقامات پر حملے کے نتائج ایران کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

ٹرمپ کے مطابق امریکہ اس فوجی کارروائی میں اپنی ابتدائی متوقع ٹائم لائن سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

امریلی صدر نے کہا کہ ’ہم نے نہیں سوچا تھا کہ ایک ماہ بعد ہم اس مقام پر ہوں گے‘

یہ بیان انھوں نے اس وقت دیا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے ہوئے 10 دن ہو چکے تھے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گذشتہ گرمیوں میں جب امریکہ نے پہلی بار ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا، اس کے باوجود ایران جوہری ہتھیار بنانے کے منصوبے رکھتا تھا اور اپنا پروگرام ختم کرنے کے حوالے سے دیانت داری سے مذاکرات نہیں کر رہا تھا۔

ان کے مطابق، ایران دراصل ’اپنے ہتھیاروں کے پروگرام کو کسی دوسرے مقام پر دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘

وہ کہتے ہیں ہیں ’انھوں نے یہ عمل شروع کر دیا تھا اور ساتھ ہی تیزی سے روایتی بیلسٹک میزائل بھی بنا رہے تھے۔۔۔ جو ہمارے بیرونِ ملک فوجی اڈوں کے لیے خطرہ تھے اور جلد ہی ہمارے وطن تک بھی پہنچ سکتے تھے۔‘

ٹرمپ کا مزید کہنا ہے کہ ’ ایرانی حکومت کا مقصد بیلسٹک میزائلوں کی اس تیزی سے بڑھتی ہوئی طاقت کا استعمال کرنا تھا تاکہ انھیں جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں رپبلکن پارٹی کے کانگریسی ارکان سے خطاب کیا، جہاں انھوں نے ایران میں جاری امریکی کارروائی کو اپنی سیاست کی ’ایک چھوٹی سی مہم‘ قرار دیتے ہوئے متعدد دعوے کیے۔

خطاب کے چند منٹ بعد ٹرمپ نے ایک نیوز کانفرنس میں صحافیوں سے بات کی۔

انھوں نے آغاز میں کہا کہ امریکہ نے ایران میں ’بڑی پیش رفت‘ کی ہے اور مشن ’تقریباً مکمل‘ ہوگیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے ایران میں ہر ایک فوجی قوت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔‘

صدر کے مطابق اب تک 5,000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں ڈرون بنانے والی تنصیبات، ایران کی بحریہ کی طاقت اور میزائل صلاحیت کے مراکز شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ان کی میزائل صلاحیت اب تقریباً 10 فیصد رہ گئی ہے شاید اس سے بھی کم۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں رپبلکن پارٹی کے کانگریسی ارکان سے خطاب میں بھی کہا تھا کہ جنگ ’بہت جلد ختم ہو جائے گی‘۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملہ سے قبل ایران امریکہ پر حملہ کرنے والا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’ایک ہفتے کے اندر وہ 100 فیصد ہم پر حملہ کرنے والے تھے۔ وہ تیار تھے۔ ان کے پاس توقع سے کہیں زیادہ میزائل تھے، اور وہ ہم پر نہیں پورے مشرقِ وسطیٰ اور اسرائیل پر حملہ کرنے والے تھے۔‘

ٹرمپ مزید دعویٰ کیا کہ ’اگر ان کے پاس جوہری ہتھیار ہوتا تو وہ اسے اسرائیل پر استعمال کرتے۔ یہ ایک بہت بڑا حملہ ہونے والا تھا۔ مجھے معلوم ہے کہ ان کے پاس میزائل سائٹس اور لانچرز تھے، جن میں سے تقریباً 80 فیصد ہم ختم کر چکے ہیں۔ اسی لیے آپ دیکھ رہے ہیں کہ حملے اب بہت کم رہ گئے ہیں۔ ان کے پاس بہت کم لانچز باقی ہیں۔‘

ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج ’حیرت انگیز‘ رہی ہے۔

ان کے مطابق ’ان کے زیادہ تر میزائل ختم کر دیے گئے ہیں، ان کے ڈرون مار گرائے جا چکے ہیں، اور ہم اُن جگہوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جہاں وہ ڈرون بناتے ہیں۔‘

امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم ان سب کو جانتے ہیں، اور وہاں زبردست کارروائی کر رہے ہیں جہاں وہ ڈرون تیار کرتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی یہ سب ختم ہوگا۔۔۔ اور بہت جلد ہوگا۔۔۔ دنیا کہیں زیادہ محفوظ ہو جائے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ایک چھوٹی سی کارروائی کی، کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ کچھ برائی کو ختم کرنا ضروری ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک قلیل مدتی کارروائی ثابت ہوگی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم کئی لحاظ سے پہلے ہی جیت چکے ہیں، لیکن ابھی کافی نہیں جیتے۔ ہم سابقہ سے زیادہ عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ مکمل فتح حاصل کر سکیں۔۔۔ ایک ایسی فتح جو ہمیشہ کے لیے اس دیرینہ خطرے کا خاتمہ کر دے گی۔‘

اپنے پہلے دورِ صدارت میں ایران کے اعلیٰ ترین فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر وہ زندہ ہوتے تو شاید آج ایران کہیں زیادہ طاقتور ہوتا، کیونکہ وہ ایک قابل اور خطرناک شخص تھے۔۔۔ سفاک، پُرتشدد اور بہت مؤثر۔ لیکن ہم نے سب سے پہلے انھیں ہی ختم کر دیا۔‘

دوسری جانب امریکی صدرکی جنگ کے ختم ہونے کے بیان کے بعد منگل کی صبح ایشیا میں کاروباری دن کے آغاز پر عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔

برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً آٹھ اعشاریہ پانچ فیصد کم ہو کر 92 اعشاریہ 50 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ امریکہ میں تجارت ہونے والا تیل بھی تقریباً نو فیصد گر کر 88 اعشاریہ 60 ڈالر فی بیرل تک آ گیا ہے۔

تاہم قیمتیں اب ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جارنے والی کارروائی کے آغاز کے وقت سے تقریباً 30 فیصد زیادہ ہیں۔

یہ کمی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیر کے روز دیے گئے اس بیان کے بعد آئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ جنگ ’بہت جلد ختم ہو جائے گی۔‘

ایشیا کی منڈیوں کو کاروباری دن کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں کمی سے کچھ سہارا ملا۔ جاپان کے نکی 225 انڈیکس میں دو اعشاریہ آٹھ فیصد اضافہ ہوا جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی ایکسچینج میں پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ایشیائی مارکیٹوں کو پہلے شدید دھچکا لگا تھا کیونکہ اس خطے کے بہت سے ممالک خلیجی ریاستوں سے تیل کے بڑے خریدار ہیں۔

Share This Article