ایرانی میڈیا نے مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ کے رہنما اور اپنے والد کے جانشین کے طور پر منتخب کیے جانے کا اعلان کیا ہے۔
ایران کے نو منتخب رہبر اعلیٰ کے نام کے اعلان سے متعلق مجلسِ رہبری کا بیان سرکاری ٹی وی پر اینکر کی جانب سے پڑھ کر سنایا گیا۔
اس بیان میں کہا گیا کہ ’شدید جنگی حالات اور اس عوامی ادارے کے خلاف دشمنوں کی براہِ راست دھمکیوں کے باوجود اور اس کے باوجود کہ سیکریٹریٹ کے دفاتر پر بمباری کے نتیجے میں عملے اور سکیورٹی ٹیم کے کئی ارکان شہید ہوئے، اسلامی نظام کی قیادت کے انتخاب اور تعارف کے عمل میں ایک لمحے کی تاخیر بھی نہیں ہوئی۔‘
یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی، اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے ایران کے رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کے جانشین کے طور اُن کے بیٹے، مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب ’ناقابل قبول‘ ہو گا۔
آٹھ ستمبر 1969 کو شمال مشرقی شہر مشہد میں پیدا ہونے والے مجتبیٰ، علی خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ انھوں نے اپنی ثانوی تعلیم تہران کے مذہبی علوی سکول سے حاصل کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، 17 سال کی عمر میں، مجتبیٰ نے ایران عراق جنگ کے دوران کئی بار مختصر مدت کے لیے فوج میں خدمات انجام دیں۔ اس آٹھ سالہ خونریز تنازع نے ایرانی حکومت کو امریکہ اور مغرب کے بارے میں مزید مشکوک بنا دیا، جو عراق کی حامی تھے۔
ایران کی مجلسِ خبرگان رہبری نے مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ملک کا نیا رہبرِ اعلیٰ یا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔
ایران کے نو منتخب رہبر اعلیٰ کے نام کے اعلان سے متعلق مجلسِ رہبری کا بیان سرکاری ٹی وی پر اینکر کی جانب سے پڑھ کر سنایا گیا۔
اس بیان میں کہا گیا کہ ’شدید جنگی حالات، اس عوامی ادارے کے خلاف دشمنوں کی براہِ راست دھمکیوں اور اس کے باوجود کہ سیکریٹریٹ کے دفاتر پر بمباری کے نتیجے میں عملے اور سکیورٹی ٹیم کے کئی ارکان شہید ہوئے، اسلامی نظام کی قیادت کے انتخاب اور تعارف کے عمل میں ایک لمحے کی تاخیر بھی نہیں ہوئی۔‘
یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی، اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے ایران کے رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کے جانشین کے طور اُن کے بیٹے، مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب ’ناقابل قبول‘ ہو گا۔
خبررساں اداروں روئٹرز اور ایکسیوس کو دیے گئے انٹرویوز میں امریکی صدر نے زور دیا تھا کہ ایران کے لیے نئے رہبر اعلیٰ کے انتخاب میں اُن (ٹرمپ) کا بھی کردار ہونا چاہیے، بالکل ویسے ہی جیسا کہ وینزویلا میں نئی قیادت کے انتخاب کے موقع پر ہوا۔
انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اس عہدے کے لیے فرنٹ رنر (یعنی سب سے آگے) ہیں، تاہم انھوں نے واضح کیا کہ وہ اس نتیجے (مجتبیٰ بطور رہبر اعلیٰ) کو ناقابلِ قبول سمجھتے ہیں۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ تہران کے ’دشمنوں‘ کو امید تھی کہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ملک ’تعطل کا شکار ہو جائے گا‘، لیکن مجلسِ خبرگان نے بالآخر مجتبیٰ خامنہ ای کو منتخب کرنے کا عمل مکمل کر لیا۔
اپنے والد کے برعکس، مجتبیٰ زیادہ عوامی نہیں رہے ہیں۔ انھوں نے کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا۔ نہ ہی انھوں نے عوامی تقاریر یا انٹرویوز دیے اور ان کی صرف محدود تعداد میں تصاویر اور ویڈیوز شائع کی گئی ہیں۔
تاہم، ان کے اثر و رسوخ کے بارے میں طویل عرصے سے افواہیں گردش کرتی رہی ہیں کہ اُن کے والد تک رسائی کے لیے مجتبیٰ سے ہو کر ہی گزرنا پڑتا تھا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی سفارتی کیبلز میں (جو وکی لیکس نے سنہ 2000 کی دہائی کے آخر میں شائع کیں) انھیں ’عبا کے پیچھے ایسی طاقت‘ کے طور پر بیان کیا، جسے حکومت میں وسیع پیمانے پر ’قابل اور طاقتور رہنما‘ سمجھا جاتا تھا۔
وہ بیٹا جو کئی دہائیوں تک اپنے والد کے سائے میں کام کرتا رہا، اب ان کی جگہ سنبھال چکا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا ایران کی طاقتور پاسدارانِ انقلاب سے بھی قریبی تعلق ہے۔ وہ ہائی سکول کے فوراً بعد اس فورس میں شامل ہو گئے تھے اور بعد میں سینئر علما سے دینی تعلیم حاصل کی۔
ان کے انتخاب کے بعد پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے ’احترام، عقیدت اور اطاعت‘ کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئی جی آر سی ان کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
دو سال قبل علی خامنہ ای نے اس خیال کو مسترد کر دیا تھا کہ مجتبیٰ ان کے جانشین بن سکتے ہیں، کیونکہ وہ اس موروثی طرزِ حکمرانی سے گریز کرنا چاہتے تھے جسے ایرانی انقلاب نے ختم کیا تھا۔ تاہم اب ان کے بعد باقی رہ جانے والا مذہبی نظام اپنے وجود کے بحران سے دوچار ہے۔
اس وقت اصل طاقت پاسدارانِ انقلاب کے پاس ہے، جو ریاستی اختیار کے تقریباً تمام اہم ذرائع پر کنٹرول رکھتے ہیں۔
تاہم ان کی تقرری ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک واضح پیغامِ مزاحمت بھی ہے، جنھوں نے انھیں ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا تھا، اور اسرائیل کے لیے بھی، جس نے انھیں قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔