بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے ہوشاپ اور پنجگورسے 3 لاپتہ نوجوانوں کو لاشیں برآمدہوئی ہیں جنہیں گولی مار کر قتل کیا گیا ہے ۔ہوشاپ سے گولیوں سے چھلنی لاش کی برآمدگی کے بعد ورثا نے احتجاجاً سی پیک شاہرا ہ پر دھرنا دیکر اسے ہر طرح کی آمدو رفت کے لئے بند کردیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تربت کے علاقے سے پولیس نے ایک شخص کی نعش قبضے میں لے لی ۔
پولیس کے مطابق تربت کے علاقے ہوشاپ سے پولیس نے ایک شخص کی گولیوں سے چھلنی نعش قبضے میں لیکرہسپتال پہنچادی جس کی شناخت شریف ولد چنگیز کے نام سے ہوئی ہے ۔
مقتول کو گزشتہ روز نامعلوم مسلح موٹرسائیکل افراد اغواء کرکے اپنے ہمراہ لے گئے تھے جسے بعد ازاں فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا۔
پولیس نے نعش ضروری کارروائی کے بعدورثاء کے حوالے کردی اور مقدمہ درج کرکے مزید کارروائی شروع کردی۔
دریں اثناء مقتول شریف کے ورثاء نے نعش کے ہمراہ گوادر،تربت ٹو کوئٹہ روڈ کو ہرقسم کی آمدورفت کیلئے بند کردیا جس کی وجہ سے سڑک کے دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی لمبی لائنیں لگ گئیں اور رمضان المبارک کے دوران مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب پنجگور میں لاشیں ملنے کا سلسلہ تھم نہ سکا، آج مزید 2 لاشیں برآمد ہوئی ہیں ۔
رخشاں ندی سے ملنے والی لاش کی شناخت شاہ جہاں ولد رحمت اللہ سکنہ قلات کے نام سے ہوگئی ہے۔
ضلع پنجگور میں ایک دن کے اندر دوسری لاش برآمد ہونے کی اطلاع ملی ہے۔
مقامی ذرائع اور پولیس کے مطابق پنجگور کے علاقے وشاپ پل کے قریب ایک نوجوان کی لاش ملی ہے جس کی شناخت ضمیر ولد ناصر ڈگار زئی کے نام سے کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ضمیر کو 3 مارچ کو نامعلوم افراد نے اغواء کیا تھا جس کے بعد وہ لاپتہ تھے۔ تاہم کئی دن گزرنے کے بعد اب اس کی لاش برآمد ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔
یہ واقعہ ایک ایسے خاندان سے جڑا ہے جس کی داستان پہلے ہی ایک المناک تاریخ رکھتی ہے۔ ضمیر کے والد ناصر ڈگار زئی کو 2011 میں پاکستانی فورسز نے اغوا کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس وقت انہیں گولیاں مار کر لاش سمجھ کر پھینک دیا گیا تھا تاہم وہ معجزانہ طور پر زندہ بچ گئے تھے۔
لیکن یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ جولائی 2011 میں ناصر ڈگار زئی کو دوبارہ اغواء کیا گیا اور بعد ازاں انہیں قتل کر دیا گیا۔
اب برسوں بعد ان کے بیٹے ضمیر کی ہلاکت نے اس خاندان کے زخموں کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے۔ ضمیر کو بھی چند روز قبل اغوا کیا گیا تھا اور اب اس کی لاش ملی ہے۔
یاد رہے کہ ضلع پنجگور میں گزشتہ دو مہینوں سے روزانہ کی بنیاد پر لاشیں ملنا معمول بن گیا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق دو مہینوں کے دوران اب تک 22 ایسی لاشیں مختلف مقامات پر ملی ہیں جنہیں یا تو لاپتہ کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا یا موقع پر فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔