بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچ قوم پر مسلط ریاستی جبر کسی مخصوص عمر، پیشے، علاقے یا جنس تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسی آہنی بیڑی بن چکا ہے جس نے پورے بلوچ سماج کو مفلوج کر دیا ہے۔ جبری گمشدگی ایک فرد کا دکھ نہیں بلکہ پورے خاندانوں اور مجموعی طور پر پوری قوم کا اجتماعی زخم ہے، جس کی مثال ہر لاپتہ شخص کا کنبہ ہے جو برسوں سے اذیت میں مبتلا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ظلم کا تسلسل کبھی بچوں کو باپ کے دیدار سے محروم کرتا ہے، تو کبھی والدین کو اپنے پیاروں کی راہ تکتے تکتے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیتا ہے۔ اماں حوری اور حاجی دین محمد بنگلزئی جیسے بے شمار والدین اسی انتظار کی اذیت میں دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔
کمیٹی نے شعیب بلوچ، ولد حاجی دین محمد بنگلزئی، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شعیب، جو جامعہ بہاءالدین زکریا ملتان کے تعلیم یافتہ اور باشعور نوجوان ہیں، انہیں 12 مئی 2025 کو گلشنِ اقبال کراچی سے ریاستی اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔ ان کے والد حاجی دین محمد ایک سال تک دن گنتے رہے، مگر گزشتہ روز اپنے بیٹے کی ایک جھلک دیکھے بغیر دنیا سے رخصت ہو گئے۔ شعیب آج بھی کسی نامعلوم کوٹھڑی میں قید ہے، اپنے والد کی وفات سے بے خبر، اور اپنے ہی شب و روز سے لڑ رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کسی ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ پورے بلوچ سماج کی اجتماعی داستان ہے، جہاں ہر گھر اس کرب سے گزر رہا ہے اور جہاں نہ فریاد سنی جاتی ہے، نہ انصاف کی کوئی امید باقی رہتی ہے۔ ظلم اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ رحم کی آفاقی صفت بھی بے بس دکھائی دیتی ہے، اور ظالم خود کو ہر انسانی اور اخلاقی معیار سے بالاتر سمجھتا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے واضح کیا کہ اس صورتحال میں نجات کا واحد راستہ قومی سطح پر اجتماعی مزاحمت ہے۔ جب تک قوم متحد ہو کر اس غیر انسانی جبر کے خلاف کھڑی نہیں ہوگی، تب تک نہ انسانی حقوق بحال ہوں گے اور نہ ہی باپ اور بیٹے کے درمیان کھڑی جبر کی دیواریں گر سکیں گی۔