بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے 10 مارچ سے 9 اپریل تک قومی آزادی کے حق اور بلوچستان میں جاری اجتماعی سزا، جبری گمشدگیوں اور سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنوں کی غیر قانونی حراستوں کے خلاف ایک ماہ پر مشتمل بین الاقوامی مہم کا اعلان کیا ہے۔
پارٹی کے مرکزی ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اس مہم کے دوران دو بین الاقوامی کانفرنسیں، احتجاجی مظاہرے، ایک عوامی ریلی اور اقوام متحدہ کی ہیومین رائٹس کونسل کے اجلاسوں کے دوران جنیوا میں سفارتی اور انسانی حقوق کی سطح پر مختلف اقدامات کیے جائیں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ ان سرگرمیوں کے ذریعے بی این ایم عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور پالیسی سازوں کی توجہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کی طرف مبذول کرانا چاہتی ہے۔ بلوچستان میں سیاسی کارکنوں، طلبہ اور سول سوسائٹی کے سرگرم ارکان کو بدستور آربٹریری گرفتاریوں، خاندانوں کو اجتماعی سزا دینے اور قانونی تقاضوں کے بغیر طویل مدت تک حراست جیسے اقدامات کا سامنا ہے۔
ترجمان کے مطابق بی این ایم کا مؤقف ہے کہ یہ خلاف ورزیاں بلوچستان میں پاکستان کی پالیسیوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ موجودہ کشیدگی اور انسانی حقوق کے مسائل کی جڑ بلوچستان کی حیثیت سے متعلق طویل عرصے سے جاری سیاسی تنازعہ ہے اور اس کا حل بلوچستان کی آزادی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بی این ایم مزید واضح کرتی ہے کہ اس بحران کا منصفانہ اور پائیدار حل اسی صورت ممکن ہے جب بلوچ قوم کے آزادی اور حقِ خودارادیت کو تسلیم کیا جائے اور ان پالیسیوں کا خاتمہ کیا جائے جو جبر اور اجتماعی سزا کو جنم دیتی ہیں۔
تنظیم کا کہنا تھا کہ اس مہم کے دوران بی این ایم بلوچ ڈائسپورا کمیونٹیز اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے کارکنوں کے ساتھ مل کر مختلف عالمی فورمز پر اس مسئلے کو اجاگر کرے گی اور بلوچستان کی صورتحال پر عالمی توجہ بڑھانے کی کوشش کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ بی این ایم بلوچ کارکنوں اور دنیا بھر میں مقیم بلوچ ڈائسپورا سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ اس مہم میں بھرپور حصہ لیں۔ حامیوں کو چاہیے کہ جہاں ممکن ہو وہ طے شدہ سرگرمیوں میں براہِ راست شرکت کریں اور سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں آگاہی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
ترجمان نے آخر میں کہا کہ کانفرنسوں، احتجاجی مظاہروں، ریلی اور دیگر سفارتی و آگاہی سرگرمیوں کی مزید تفصیلات آئندہ دنوں میں جاری کی جائیں گی۔