نوشکی ، ملتان اور گوادر سے 7 نوجوان پاکستانی فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ، ایک بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان اور دیگر علاقوں سے پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق نوشکی ، ملتان اور گوادر سے 7 نوجوانوں کو فورسز نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جبکہ ایک بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق 14 فروری 2026 کی شام پنجاب کے علاقے ملتان ٹبہ چار بلوچوں کو پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

لاپتہ کیے جانے والوں کی شناخت کوہ سلیمان کے علاقے فضلہ کچ سے تعلق رکھنے والے محمد اسماعیل بزدار ولد خدا بخش، بیس سالہ جلیل بزدار ولد محمد، بیس سالہ محمد لطیف بزدار اور سینتیس سالہ غلام دین بزدار ولد محمد خان کے ناموں ہوئی ہے جو تمام مزدور پیشہ افراد ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ چاروں افراد کو 14 فروری 2026 کو رات تقریباً 8 بجے ملتان ٹبہ کے علاقے سے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لیا جس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکاہے۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک ان کی گرفتاری کی کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی ان کے بارے میں کسی تھانے یا عدالت میں معلومات فراہم کی گئی ہیں، جس کے باعث خاندان شدید تشویش میں مبتلا ہے۔

دوسری جانب نوشکی کے علاقے جورکین سے بھی ایک ہفتہ قبل دو افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

لاپتہ ہونے والوں کی شناخت رؤف ولد خیر جان اور انجم ولد چاکر خان کے ناموں سے ہوئی ہے، جنہیں پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔

اسی طرح ساحلی شہر گوادر کی تحصیل جیونی کے علاقے پانوان سے 16 سالہ طالب علم عبداللہ بلوچ ولد حکیم بلوچ کو 9 مارچ 2026 کو ان کے گھر سے فورسز نے زبردستی حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

اہلِ خانہ کے مطابق فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکار، جن کے ساتھ ملٹری انٹیلی جنس کے اہلکار بھی موجود تھے، نے گھر پر چھاپہ مارا اور عبداللہ بلوچ کو حراست میں لے گئے۔ اس واقعے کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔

لواحقین نے ان کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

دریںاثناپاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور سے فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ ہونے والے وہاب غنی بازیاب ہوگئے ہیں۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے وہاب غنی کی بازیابی کی تصدیق کی ہے ۔

Share This Article