تربت: گوکدان میں پاکستانی فورسز کے گھروں پر چھاپے، توڑ پھوڑ ، خواتین سے بد سلوکی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے تربت کے علاقے گوکدان میں گزشتہ شب پاکستانی فورسز نے سابق کونسلر علی فقیر سنگھور کے گھر پر چھاپہ مارا، جس دوران اہلِ خانہ کے مطابق گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی، خواتین پر تشدد کیا گیا اور اہلِ خانہ کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔

اہلِ خانہ نے بتایا کہ رات تقریباً دو بجے کیے گئے اس آپریشن میں فورسز اہلکاروں نے گھر کے دروازے، الماریاں اور دیگر سامان توڑ دیا، جبکہ خواتین کے ساتھ گالم گلوچ اور ہاتھا پائی بھی کی گئی۔

ان کے مطابق فورسز ایک ہنڈا 125 موٹر سائیکل، موبائل فون اور عید کے لیے تیار کیے گئے مردانہ و زنانہ کپڑے بھی اپنے ساتھ لے گئیں۔

گھر والوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی متعدد بار رات کے وقت چھاپے مارے گئے ہیں، اور ایک موٹر سائیکل پہلے بھی لے جائی گئی تھی جو تاحال واپس نہیں کی گئی۔

ان کے مطابق اگر خاندان کا کوئی نوجوان کہیں چلا گیا ہے تو اس کی سزا کے طور پر خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنا ناانصافی ہے۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی مقامی معتبرین کے ہمراہ کیمپ جا کر تحریری طور پر اپنا مؤقف دے چکے ہیں کہ اگر خاندان کا کوئی فرد کہیں گیا ہے تو اس کے عمل کے ذمہ دار وہ نہیں ہیں۔

علاقائی ذرائع کے مطابق اسی رات گوکدان میں لعل بخش آدم نامی شخص کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا، تاہم اس کارروائی کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران جبری لاپتہ افراد کے لواحقین پر دباؤ بڑھنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ مختلف خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں ریاستی اداروں کی جانب سے اپنے جبری لاپتہ عزیزوں سے اظہارِ لاتعلقی کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، بصورتِ دیگر انہیں بھی جبری لاپتہ اور ان کی زمین و جائیداد ضبط کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

اسی دباؤ کے نتیجے میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے درجنوں خاندان پریس کانفرنسز کے ذریعے اپنے جبری لاپتہ افراد سے لاتعلقی کا اعلان کر چکے ہیں۔

انسانی حقوق تنظیموں اور سماجی حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات جبری گمشدگیوں کے کیسز کو متنازع بنانے کی کوشش ہیں، تاکہ عالمی سطح پر یہ تاثر دیا جا سکے کہ جبری لاپتہ افراد خود کسی مسلح تنظیم کا حصہ بن چکے ہیں اور ان کے خاندان اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں۔

تنظیموں کے مطابق یہ طرزِ عمل نہ صرف متاثرہ خاندانوں پر مزید دباؤ کا باعث بن رہا ہے بلکہ جبری گمشدگیوں کے سنگین مسئلے کو بھی پیچیدہ بنا رہا ہے۔

Share This Article