بلوچ یکجہتی کمیٹی( بی وائی سی ) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک سال مکمل ہو چکا ہے جب بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی قیادت ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبگر بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی، گلزادی بلوچ اور بیبو بلوچ کو قید و بند کی صعوبتوں میں دھکیل دیا گیا، یہ ایک سال محض چند افراد کی قید کا قصہ نہیں، بلکہ اس ادارہ جاتی گٹھ جوڑ کی عکاسی ہے جس میں ریاست کے تمام ستون ایک نہتے عوامی بیانیے کو کچلنے کے لیے متحد ہو چکے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ فوج، خفیہ ایجنسیاں اور سی ٹی ڈی (CTD) جیسے ادارے اس منظم جبر کے مرکزی کردار ہیں۔ 2025 اور 2026 کے دوران ہزاروں ایسے کیسز رپورٹ ہوئے جہاں “انسدادِ دہشت گردی” کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کر کے سیاسی آوازوں کو دبایا گیا، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے بارہا مطالبات کے باوجود، جبری گمشدگیوں کو جرم قرار دینے کے بجائے “ڈی ریڈیکلائزیشن سینٹرز” جیسے نام نہاد اقدامات کے ذریعے غیر قانونی حراستوں کو ایک نیا لبادہ پہنا دیا گیا ہے، یہاں احتساب کا تصور مفقود ہے اور طاقت کا استعمال ہی واحد قانون ہے۔ وہ عدالتیں جنہیں مظلوم کی پناہ گاہ ہونا چاہیے تھا، وہ سیاسی بنیادوں پر درج ایف آئی آرز (FIRs) کو جواز فراہم کرنے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ BYC کے رہنماؤں کو پہلے تھری ایم پی او (MPO) کے کالے قانون کے تحت مہینوں قید رکھا گیا اور پھر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے جھوٹے الزامات کے تحت ان کی قید کو طویل دیا گیا، ۔ بالاچ بلوچ اور حمدان بلوچ کے کیسز اس عدالتی بے بسی کی سب سے ہولناک مثالیں ہیں، جنہیں عدالت میں پیش کرنے کے محض چند دن بعد “جعلی مقابلوں” میں قتل کر دیا گیا، جب عدلیہ جبر کو قانونی تحفظ فراہم کرنے لگے، تو قانون کی حکمرانی اپنی موت آپ مر جاتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کا قومی میڈیا اس وقت محض خاموش تماشائی نہیں ہے، بلکہ وہ ریاست کے اس جھوٹے بیانیے کو پروان چڑھانے کا سب سے بڑا آلہ کار بن چکا ہے جس کا مقصد بلوچ عوام کی جائز سیاسی جدوجہد کو مسخ کرنا ہے، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں جیسے پُرامن سیاسی کارکنوں کو، جو صرف انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں، ٹی وی اسکرینوں اور اخبارات کی سرخیوں میں “دہشت گرد” یا “دہشت گردوں کے سہولت کار” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ صحافت نہیں بلکہ ایک منظم پروپیگنڈا ہے، جہاں سچ کو دبانے کے لیے من گھڑت کہانیاں تخلیق کی جاتی ہیں تاکہ اس جبر کو ایک اخلاقی جواز فراہم کیا جا سکے۔
انہوںنے کہا کہ یہ ادارہ جاتی ملی بھگت صرف بلوچستان کے لیے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے جمہوری وجود کے لیے ایک خطرہ ہے، وقت کا تقاضا ہے کہ جبری گمشدگیوں کو فوری طور پر سنگین جرم قرار دے کر ایک بااختیار اور آزاد کمیشن بنایا جائے، عدلیہ اپنی آزادی کو بحال کرے اور سیاسی بنیادوں پر بننے والے مقدمات کا آلہ کار بننے سے انکار کرے، میڈیا پر لگی غیر اعلانیہ سنسر شپ ختم کی جائے ، اور اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ان تمام مظالم کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ خاموشی بذاتِ خود ایک جرم ہے، اگر بلوچستان میں انسانی حقوق کی یہ پامالی اسی طرح جاری رہی، تو یہ ناانصافی پورے ملک کے جمہوری ڈھانچے کو جڑوں سے کھوکھلا کر دے گی۔