مستونگ : حکومتی راشن تقسیم کے عمل میں اقلیتی برادری مکمل نظر انداز

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان پیپلز پارٹی کے اقلیتی ونگ کے بلوچستان کے نائب صدر الیاس مسیح بھٹی، جاوید مسیح، پالوس مسیح، خرم مسیح، شکیل مسیح، انتھنی مسیح، سنو مسیح، یاسر مسیح اور دیگر نے خواتین کے ہمراہ سراوان پریس کلب مستونگ میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی برادری، جس میں مسیحی اور ہندو کمیونٹی شامل ہیں، صدیوں سے اس خطے میں آباد ہے اور اس معاشرے کا باقاعدہ حصہ ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی ہمیں اس معاشرے میں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے مستونگ سمیت بلوچستان بھر میں غریب و نادار افراد کے لیے راشن پیکج کی فراہمی کا اقدام قابلِ تحسین ہے اور ہم اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، تاہم مستونگ میں راشن پیکج کی تقسیم کے دوران شدید ناانصافی اور امتیازی سلوک دیکھنے میں آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مستونگ میں راشن کی تقسیم کے عمل میں اقلیتی برادری کے غریب، نادار اور مستحق افراد کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے جو انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس طرح سرکاری محکموں میں اقلیتوں کے لیے پانچ فیصد کوٹہ مقرر ہے، اسی طرح راشن پیکج میں بھی مسیحی اور ہندو برادری کے مستحق خاندانوں کے لیے کم از کم پانچ فیصد کوٹہ مختص کیا جائے تاکہ اقلیتی برادری کے غریب افراد بھی حکومتی امداد سے مستفید ہو سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مستونگ میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اقلیتی برادری کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے، جس کی وجہ سے اقلیتی برادری میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے اور ہمیں اب ان سے کسی خیر کی توقع نہیں رہی۔

آخر میں انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان اور ڈپٹی کمشنر مستونگ سے اپیل کی کہ راشن پیکج کی تقسیم کے عمل کا نوٹس لیا جائے، شفاف اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے اور اقلیتی برادری کے مستحق افراد کو فوری طور پر اس پیکج میں شامل کیا جائے تاکہ ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ ہو سکے۔

دریں اثناء انھوں نے اقلیتی امور کے بلوچستان وزیر سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سے درخواست کرے کہ جہاں بھی راشن تقسیم ہو رہی ہے وہاں کے ڈپٹی کمشنرز کو اقلیتی کوٹے پر عمل در آمد کی ہدایات جاری کرے۔

Share This Article