سندھ بلوچستان بس ٹرانسپورٹ یونین کی دو ہفتوں سے جاری ہڑتال ختم کرنے کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

سندھ بلوچستان بس ٹرانسپورٹ یونین نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کے ساتھ مذاکرات کے بعد دو ہفتوں سے جاری ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

یونین کے مطابق حکومت اور حکام کی جانب سے مطالبات پر مثبت پیش رفت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔

یونین کے مطابق 18 فروری 2026 کو اپنی کابینہ کے مشورے سے مکمل احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا اور پریس کانفرنس کے ذریعے حکومت کے سامنے اپنے تحفظات اور مسائل رکھے گئے تھے۔ ٹرانسپورٹرز کے مطالبات میں رات کے وقت سفر کی اجازت، کوسٹل ہائی وے پر چیک پوسٹس پر مسافروں کو گھنٹوں انتظار کروانے کا خاتمہ، ہر چیک پوسٹ پر غیر ضروری چیکنگ میں تاخیر ختم کرنا، کٹ آف ٹائم میں نرمی اور ٹرانسپورٹرز کی بسوں کو بلاجواز سرکاری تحویل میں نہ لینے جیسے مطالبات شامل تھے۔

یونین کے مطابق احتجاج کا آغاز ضلع حب کی حدود میں کیا گیا تھا جہاں احتجاجی پنڈال بھی قائم کیا گیا۔ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے ٹرانسپورٹرز کو مذاکرات کے لیے بلایا اور ان کے مطالبات سنے۔ مذاکرات کے بعد ضلعی انتظامیہ نے حکومت بلوچستان کو ٹرانسپورٹرز کے تحفظات سے آگاہ کیا۔

یونین کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں پاک فوج کے 44 ڈویژن کے جی او سی کے ساتھ بھی ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں چیک پوسٹس پر پیش آنے والے مسائل سمیت دیگر مطالبات ان کے سامنے رکھے گئے۔

یونین کے مطابق مختلف سطح پر ہونے والی ملاقاتوں اور مذاکرات کے بعد ان کے مطالبات کو تسلیم کیے جانے اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کے بعد ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سندھ بلوچستان بس ٹرانسپورٹ یونین نے جی او سی اور ضلعی انتظامیہ گوادر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹرانسپورٹرز کے مسائل سنے اور ان کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کیا۔ یونین نے خصوصی طور پر ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کا بھی شکریہ ادا کیا۔

یونین نے ہڑتال کے باعث مسافروں کو پیش آنے والی مشکلات پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹرز آئندہ بھی انتظامیہ کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے، خصوصاً زائرین کی آمد اور کوہ مراد کے مذہبی تہوار کے موقع پر آنے والے مرد و خواتین کو سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

یونین نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ٹرانسپورٹرز کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا جائے گا اور انہیں غیر ضروری طور پر مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

Share This Article