بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے جاری کردہ آن لائن پمفلٹ میں کہا ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں شہریوں کو زندگی، تعلیم، ملکیت، مذہب اور اظہارِ رائے سمیت بنیادی حقوق حاصل ہوتے ہیں، اور انہی حقوق میں پرامن احتجاج، جلسے، جلوس، سیمینار اور ریلیاں بھی شامل ہیں۔
پمفلٹ کے مطابق پریس کلب جیسے مقامات شہریوں کے لیے اپنی تکالیف اور مسائل حکومت تک پہنچانے کا ذریعہ ہوتے ہیں، اور اگر ان پر پابندیاں لگا دی جائیں تو عوام کے پاس اپنی آواز بلند کرنے کا کوئی راستہ نہیں بچتا۔
کمیٹی نے کہا کہ جب شہری سڑکوں پر آتے ہیں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے مسائل سنے، نہ کہ طاقت کے استعمال سے انہیں دبانے کی کوشش کرے۔ مگر پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے، جہاں کتابوں، تقریبات، سیمینارز اور عوامی اجتماعات پر سنسرشپ عائد ہے، اور پرامن احتجاج کرنے والوں پر لاٹھی چارج، شیلنگ، اوپن فائرنگ اور گرفتاریوں جیسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پولیس کا کام عوام کی حفاظت ہے، نہ کہ عورتوں، بزرگوں اور بچوں پر تشدد کرنا۔ مگر بلوچستان میں پرامن جلسے، جلوس یا سیمینار کے بعد شرکاء کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا، فورتھ شیڈول میں نام شامل کرنا، دھمکیاں دینا، ہراسانی اور جبری گمشدگی جیسے اقدامات معمول بن چکے ہیں۔ کمیٹی کے مطابق پرامن احتجاج کو “ریاست مخالف سرگرمی” قرار دینا آئینی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ پرامن احتجاج کا مقصد صرف حکومت کو بلوچستان کے مسائل سے آگاہ کرنا ہوتا ہے، اور یہ حق کسی بھی شہری سے چھینا نہیں جا سکتا۔ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ ریاست شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرے اور پرامن سیاسی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرے۔