جھالاوان عوامی پینل کے سربراہ شفیق مینگل کی پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صحافیوں، تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں اس فیصلے کو پیپلز پارٹی کے لیے “متنازعہ” اور “تشویشناک” قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ شفیق مینگل نے حال ہی میں اسلام آباد میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی، جس کے بعد ایکس پر اس فیصلے کے حوالے سے بحث اور تنقید کا سلسلہ تیز ہو گیا۔
سینئر صحافی اویس توحید نے اپنے تبصرے میں کہا کہ بلوچ عوام میں بدنام سمجھے جانے والے شفیق مینگل کی پیپلز پارٹی میں شمولیت پر بلوچوں کا ناراض ہونا فطری ہے۔
ان کے مطابق بلوچستان میں شورش کے عروج کے دوران بلوچوں کے خلاف مبینہ ڈیتھ اسکواڈ چلانے کے الزامات شفیق مینگل پر عائد رہے ہیں، اور اب ان کا مرکزی دھارے کی سیاست میں آنا تشویش کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج شفیق مینگل نے صدر آصف علی زرداری سے ہاتھ ملایا ہے، کل وہ بلاول بھٹو زرداری، آصفہ بھٹو زرداری اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر نظر آئیں گے، جو پیپلز پارٹی کے لیے باعثِ شرمندگی سمجھا جا رہا ہے۔
صحافی سید آئی حسین نے اپنے تبصرے میں یاد دلایا کہ سندھ کے شہر شکارپور کی امام بارگاہ پر حملے میں ساٹھ افراد کی ہلاکت کے بعد بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی میں حفیظ بروہی کا نام سامنے آیا تھا، اور ایک تحقیقاتی افسر کے مطابق خودکش بمبار کو افغانستان سے وڈھ، وہاں سے شہداد کوٹ اور پھر شکارپور پہنچایا گیا، جس سلسلے میں شفیق مینگل کا نام بھی لیا گیا تھا۔
معروف صحافی امتیاز چانڈیو کے مطابق سندھ کی پرامن دھرتی کو خون سے رنگنے کے سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے اور مختلف دھماکوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ شفیق مینگل کو پیپلز پارٹی میں شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شکارپور، سیہون، جیکب آباد اور کراچی دھماکوں کی تحقیقات میں بھی ان کا نام سامنے آتا رہا ہے۔
صحافی سورٹھ سندھو نے ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ سیاست کو مفادات اور سمجھوتوں کا کھیل کہا جاتا ہے، مگر “ایسی بھی کیا مجبوری تھی کہ اس حد تک جانا پڑا۔”
سینئر صحافی سائرل المیڈا نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ جمہوریت کو بچانے کے نام پر پیپلز پارٹی ایک ایک کر کے متنازعہ افراد کو اپنی صفوں میں شامل کر رہی ہے۔
سابق ایڈیٹر ڈان عباس ناصر نے کہا کہ “سیکٹر کمانڈر وزیراعلیٰ کو بتاتے ہیں، وزیراعلیٰ اپنی جماعت کو آگاہ کرتے ہیں اور پھر معاملات اسی طرح آگے بڑھتے ہیں۔” ان کے مطابق ملک گیر سیاسی جماعتیں طویل عرصے سے بلوچستان کی سیاست کو اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کرتی آئی ہیں۔
صحافی رفیع اللہ کاکڑ نے تبصرہ کیا کہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی دو نشستیں بھی نہیں جیت سکی، اس کے باوجود حکومت بنائی گئی، اور اب ایسے فیصلوں کے ذریعے “سیاسی قرض” اتارے جا رہے ہیں۔
ان کے مطابق ایک مبینہ ڈیتھ اسکواڈ رہنما اور دہشت گرد گروہوں کے سہولت کار کو خوش آمدید کہنا پیپلز پارٹی کے لیے “ایک نئی نچلی سطح” کی عکاسی کرتا ہے۔
صحافی کیا بلوچ نے کہا کہ مرکزی سیاسی جماعتوں نے بلوچستان کی سیاست کو مفاد پرستی، بدعنوانی اور اقتدار کی سوداگری کا میدان بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس شخص پر ماضی میں سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے، آج اسی کو صدر آصف علی زرداری اپنی جماعت میں شامل کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہر شخص کو اپنی سیاسی وابستگی اختیار کرنے کا حق حاصل ہے، مگر اس کے نتائج کا بوجھ عام بلوچ عوام پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔
صحافی اسد علی طور نے سوال اٹھایا کہ سندھ میں اپنی حکومت اور صدارت کو برقرار رکھنے کے لیے پیپلز پارٹی کو مزید کتنے متنازعہ افراد کو اپنے ساتھ شامل کرنا پڑے گا۔