امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کیا ہے کہ ’اب ایران کے پاس نہ بحریہ ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی فضائی دفاعی نظام، تقریباً سب کچھ تباہ ہو گیا ہے۔‘
وائٹ ہاؤس میں جرمنی کے چانسلر کے ساتھ میڈیا بریفنگ کے دوران ان سے مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں پہلا سوال یہ کیا گیا کہ کیا اسرائیل نے ٹرمپ کو مجبور کیا؟ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’نہیں، میں نے شاید انھیں مجبور کیا۔‘
ایران کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ کہتے ہیں کہ ’ہم ان پاگلوں کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے، اور میری رائے تھی کہ وہ پہلے حملہ کرنے والے ہیں۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ایسا ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ ایسے میں ’تو اگر کچھ ہے تو میں نے شاید اسرائیل کو مجبور کیا۔ میرا خیال ہے وہ حیران تھے، میں حیران تھا، اور اب وہ تمام ممالک ان کے خلاف لڑ رہے ہیں۔‘
اگلا سوال یہ کیا گیا کہ ایران میں امریکہ نے بدترین صورتحال کے لیے کیا منصوبہ بنایا ہے۔ ٹرمپ نے جواب دیا کہ بدترین صورتحال یہ ہے کہ ’ہم یہ کرتے ہیں اور کوئی ایسا شخص اقتدار سنبھال لیتا ہے جو پچھلے شخص جتنا ہی برا ہو۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کے ذہن میں کچھ لوگ تھے جو ملک کی قیادت کر سکتے تھے، لیکن وہ اب مر چکے ہیں۔‘
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتیں ’کچھ عرصے کے لیے‘ زیادہ رہ سکتی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملوں کے بعد بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں پر بات کی۔
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’لوگوں کو لگا کہ یہ کام کرنا ضروری تھا۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’تو اگر کچھ عرصے کے لیے تیل کی قیمتیں زیادہ رہتی ہیں۔۔ جیسے ہی یہ ختم ہوگا، وہ قیمتیں گر جائیں گی۔‘