زہری میں کرفیو نافذ، عوام گھروں تک محدود، بنیادی ضروریات کی شدید قلت

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے خضدار کے علاقے زہری میں پاکستانی فوج نے کرفیو نافذ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں آمد و رفت، پبلک ٹرانسپورٹ، کاروباری مراکز اور تمام بازار مکمل طور پر بند ہو گئے ہیں۔ شہری گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو چکے ہیں۔

کرفیو کے بعد مقامی آبادی اشیائے خورد و نوش کی قلت کا سامنا کر رہی ہے۔ آٹا، دودھ، سبزیاں، ادویات اور روزمرہ استعمال کی دیگر ضروری اشیاء تک رسائی محدود ہو گئی ہے، جس سے خاص طور پر یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور طبقے کو مالی مشکلات درپیش ہیں۔ کاروبار کی بندش نے مقامی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے اور لوگ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے پریشان ہیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں پابندیوں کے باعث مشکلات بڑھ گئی ہیں، اس لیے حکومت سے اپیل کی جا رہی ہے کہ انسانی بنیادوں پر کرفیو میں نرمی کی جائے تاکہ عوام کم از کم ضروری سامان حاصل کر سکیں۔ شہریوں نے یہ بھی بتایا کہ مریضوں کو اسپتال تک پہنچانا مشکل ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی زہری میں ایک ماہ طویل کرفیو نافذ رہا تھا، جس دوران ڈرون حملوں سے جانی و مالی نقصان ہوا اور خوف و ہراس کی فضا قائم رہی۔ دوسری جانب نوشکی میں بھی کرفیو بدستور جاری ہے اور وہاں کے لوگ بھی مسلسل شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

Share This Article