پاکستان بار کونسل کے رکن منیر احمد خان کاکڑ نے کوئٹہ پریس کلب میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاتون وکیل نادیہ بلوچ کے ساتھ پولیس کا ناروا رویہ اور انہیں پرامن پریس کانفرنس سے روکنے کی کوشش نہایت قابل افسوس اور آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نادیہ بلوچ اپنی ہمشیرہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی خراب صحت سے متعلق میڈیا کو آگاہ کرنے کے لیے گئی تھیں، لیکن پولیس کی جانب سے مبینہ بدسلوکی اور رکاوٹ ڈالنا ناقابل برداشت عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاتون وکیل کے ساتھ اس قسم کا رویہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے باعث شرم ہے۔
منیر احمد خان کاکڑ نے اس موقع پر کوئٹہ پریس کلب کے اراکین اور صحافیوں کے ساتھ مبینہ ہاتھا پائی اور ناروا سلوک پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ صحافی جمہوری معاشرے کا اہم ستون ہیں، اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی ہراسانی یا تشدد آزادی صحافت اور جمہوری اقدار پر حملہ ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ وکلاءبرادری آئین و قانون کی بالادستی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی اور کسی بھی غیر قانونی اقدام پر خاموش نہیں رہے گی۔