بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پریس کلب میں بی وائی سی کی جانب سے منعقدہ میڈیا ٹاک کے دوران پولیس کی مداخلت نے صحافتی حلقوں میں شدید ردعمل پیدا کر دیا ہے۔
بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اور کوئٹہ پریس کلب کی قیادت نے اس واقعے کو آزادی صحافت اور آزادی اظہارِ رائے کے منافی قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ہنگامی اجلاس میں صحافتی تنظیموں نے کہا کہ پریس کلب کے احاطے میں پولیس اہلکاروں کا داخل ہونا، صحافیوں کو کوریج سے روکنا اور ہراساں کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
اعلامیے کے مطابق پریس کلب میں پریس کانفرنس یا میڈیا ٹاک کرنا ہر شہری کا حق ہے اور پولیس کی کارروائی اس حق کی خلاف ورزی ہے۔
مشترکہ بیان میں اس واقعے کو ماضی کے اس اقدام سے جوڑا گیا جس میں پریس کلب کو تالے لگا دیے گئے تھے۔ اس وقت صحافتی برادری کے احتجاج اور حکومتی یقین دہانی کے بعد معاملہ ختم ہوا تھا، تاہم ایک بار پھر پولیس کی مداخلت کو تشویشناک اور ناقابل برداشت قرار دیا گیا ہے۔
صحافتی تنظیموں نے سرفراز بگٹی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات اور آئی جی پولیس بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت پریس کلب کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، بصورت دیگر آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔