دو مارچ کبھی بلوچ قومی تقویم کا وہ دن تھا جب گلیوں، چوراہوں، تعلیمی اداروں اور شہروں میں رنگ، موسیقی اور بلوچی دوچاپی کی تھاپ سنائی دیتی تھی۔ نوجوان روایتی لباس زیب تن کیے، بزرگ فخر سے مسکراتے، اور مائیں اپنے بچوں کو ثقافتی شناخت کا شعور دیتی دکھائی دیتی تھیں۔ یہ دن صرف ایک تہوار نہیں بلکہ بلوچ قوم کی اجتماعی پہچان، زبان، لباس اور تاریخ سے وابستگی کا اظہار تھا۔ مگر آج دو مارچ کی فضا خاموش ہے۔ نہ وہ رنگ ہیں، نہ وہ قہقہے، نہ وہ دوچاپی کی گونج۔ اس خاموشی کے پیچھے ایک دردناک داستان ہے۔
اس دن کو عوامی سطح پر منانے کا آغاز کرنے والے بانی کوئی اور نہیں بلکہ کامریڈ بیبرگ بلوچ ہیں۔ وہی بیبرگ بلوچ جو آج ایک سال سے زائد عرصے سے دیگر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے ساتھ کوئٹہ میں قید ہیں۔ وہی بیبرگ بلوچ جنہوں نے مسخ شدہ لاشوں اور جبری گمشدگیوں کے تسلسل کو دیکھتے ہوئے بلوچ قوم سے اپیل کی کہ جب ہر روز کسی گھر میں ماتم بچھا ہو، جب مائیں اپنے بیٹوں کی لاشیں اٹھا رہی ہوں، جب بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ تکتی آنکھوں کے ساتھ سو رہی ہوں، تو ایسے میں خوشی کے تہوار منانا کیسا؟۔
دو مارچ 2010 کی وہ رات بلوچ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ بلوچ کلچر ڈے کی تقریب انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار میں جاری تھی۔ رات تقریباً دس بجے کا وقت تھا۔ نوجوان بلوچی دوچاپی میں محوِ رقص تھے کہ اچانک تین زور دار دھماکوں نے فضا کو چیر دیا۔ چیخیں، دھواں، خون اور افراتفری، یہ سب لمحوں میں رونما ہوا۔ اس حملے میں دو نوجوان طالب علم، سکندر بلوچ اور جنید بلوچ، جان کی بازی ہار گئے جبکہ تقریباً اٹھارہ افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں بیبرگ بلوچ بھی شامل تھے۔
سکندر بلوچ کا تعلق مستونگ سے تھا اور وہ ایف ایس سی ڈگری کالج خضدار کے طالب علم تھے۔ جنید بلوچ قلات سے تعلق رکھتے تھے اور وہ بھی اسی ادارے میں زیر تعلیم تھے۔ دونوں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) کے سرگرم کارکن تھے۔ وہ صرف طالب علم نہیں بلکہ اپنے عہد کے باشعور نوجوان تھے جو اپنی ثقافت اور شناخت پر فخر کرتے تھے۔ ان کی شہادت نے بلوچ کلچر ڈے کو ہمیشہ کے لیے ایک المیہ یادگار بنا دیا۔
اس دھماکے میں بیبرگ بلوچ کے پاؤں اور ریڑھ کی ہڈی شدید متاثر ہوئی۔ وہ چلنے سے محروم ہوگئے اور آج وہیل چیئر ان کی مستقل ساتھی ہے۔ اس وقت وہ ایف ایس سی کے فرسٹ ایئر کے طالب علم اور بی ایس او (آزاد) کے ڈپٹی یونٹ سیکرٹری تھے۔ دھماکے کے بعد انہیں کچھ عرصے کے لیے تعلیم ترک کرنا پڑی، مگر حوصلہ نہ ٹوٹا۔ بعد ازاں انہوں نے جامعہ بلوچستان سے زولوجی میں ایم فل مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔
جسمانی معذوری ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکی، کیونکہ نظریاتی طور پر وہ آج بھی مضبوط اور ثابت قدم ہیں۔
وقت گزرتا گیا، مگر بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ نہ رکا۔ ایسے میں بیبرگ بلوچ نے فیصلہ کیا کہ بلوچ کلچر ڈے کو مزید نہ منایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب قوم اجتماعی دکھ سے گزر رہی ہو تو خوشیوں کی تقریبات معنی کھو دیتی ہیں۔ یہ فیصلہ کسی کمزوری کا اظہار نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی بیداری تھی۔
آج بیبرگ بلوچ، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، واجہ شاہ جی بلوچ، گلزادی بلوچ اور بیبو بلوچ تقریباً ایک سال سے جیل میں قید ہے۔ ان گرفتاریوں کا طریقہ کار بھی سوالات سے خالی نہیں۔ ابتدائی طور پر انہیں مینٹیننس آف پبلک آرڈر (3-MPO) کے تحت تین ماہ تک بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھا گیا۔ مدت مکمل ہونے پر رہائی کے بجائے مزید سیاسی نوعیت کے مقدمات درج کر دیے گئے۔
اگرچہ ان میں سے کئی مقدمات قابلِ ضمانت تھے، مگر بار بار جسمانی ریمانڈ، تفتیشی رپورٹس میں تاخیر اور قانونی پیچیدگیوں کے ذریعے ان کی آزادی روکی جاتی رہی۔ کئی کیسز کے چالان عدالتوں میں جمع ہو چکے ہیں، مگر ضمانت یا تو مسترد ہوتی رہی یا مسلسل مؤخر کی جاتی رہی۔ یہ صورتحال انصاف کے تقاضوں پر سوالیہ نشان ہے۔
اسی دوران ایک اور تشویشناک خبر سامنے آئی کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی طبیعت جیل میں بگڑ گئی ہے۔ 18 فروری کو ان کی حالت تشویشناک ہونے پر انہیں شیخ زید اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں لمبر اسپائن کا ایم آر آئی کیا گیا۔ رپورٹ میں ڈسک کے ابھار، اعصابی جڑوں پر دباؤ اور L4-L5 کی سطح پر اینولر ٹیئر جیسے سنگین مسائل کی نشاندہی ہوئی۔ ڈاکٹروں نے فوری آرام اور مناسب علاج کی سفارش کی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق ابتدا میں ایم آر آئی رپورٹ فراہم کرنے سے انکار کیا گیا اور اسے چھپانے کی کوشش کی گئی۔ مسلسل قانونی دباؤ کے بعد دس دن کی جدوجہد سے رپورٹ حاصل کی جا سکی۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر شفاف ہے بلکہ ایک مریض کی بنیادی انسانی حقوق سے بھی متصادم ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ پر کوئی ایسا الزام موجود نہیں جو ناقابلِ ضمانت ہو، مگر اس کے باوجود عدالت کی جانب سے ضمانت مسترد کی جا رہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب طبی شواہد فوری علاج کی ضرورت کی تصدیق کر رہے ہوں، طویل عدالتی کارروائی پر اصرار انسانی ہمدردی کے اصولوں کے خلاف محسوس ہوتا ہے۔
بلوچستان بار کونسل نے بھی اپنے بیان میں واضح کیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ایک باوقار شہری ہیں اور ان کی جان و صحت کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح بلوچستان نیشنل پارٹی نے بھی اعلیٰ معیار کی طبی سہولیات کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبات کسی سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ انسانی بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں۔
دو مارچ کی خاموشی دراصل اسی پس منظر کا نتیجہ ہے۔ یہ خاموشی احتجاج بھی ہے اور سوگ بھی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ثقافت صرف رقص اور لباس کا نام نہیں، بلکہ عزتِ نفس، جان کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی سے جڑی ہوئی ہے۔ جب انصاف معطل ہو جائے تو تہواروں کی رونق ماند پڑ جاتی ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اختلافِ رائے کو جرم نہ سمجھا جائے۔ انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانا کسی ریاست کے خلاف بغاوت نہیں بلکہ آئین کی روح کے مطابق عمل ہے۔ اگر بلوچ کلچر ڈے کبھی دوبارہ اسی جوش و جذبے سے منایا جانا ہے تو اس کے لیے سب سے پہلے خوف اور ناانصافی کی فضا کا خاتمہ ضروری ہے۔
دو مارچ کی یہ خاموشی تاریخ میں درج ہو چکی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی رہے گی کہ ثقافت کی بقا صرف رنگوں سے نہیں بلکہ انصاف، امن اور انسانی وقار سے ممکن ہے۔ جب تک بیبرگ بلوچ وہیل چیئر پر قید اور ماہ رنگ بلوچ جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیمار رہیں گی، تب تک دو مارچ جشن نہیں بلکہ ایک سوال بنا رہے گا۔ کیا ہم واقعی خوشی منانے کے قابل ہیں؟۔
٭٭٭