بلوچ یکجہتی کمیٹی( بی وائی سی ) نے بلوچستان پریوینشن آف ڈیٹینشن اینڈ ڈی ریڈیکلائزیشن ایکٹ 2025 کوبلوچ نسل کشی کی ایک نئی شکل قرار دیا ہے ۔
اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں کئی دہائیوں سے ایک سنگین اور مستقل مسئلہ رہی ہیں۔ اس وقت تقریباً ہر بلوچ گھرانہ اس اذیت سے براہِ راست یا بالواسطہ متاثر ہے۔ ریاستِ پاکستان کے ہر ادارہ اس عمل میں کسی نہ کسی سطح پر شامل رہا ہے، جبکہ عدالتوں اور مختلف کمیشنوں نے اس سنگین انسانی المیے کو اکثر متنازع بنانے، کمزور کرنے یا پروپیگنڈے کے ذریعے دبانے کی کوشش کی ہے۔ یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ بلوچ نسل کشی محض چند افراد یا اداروں تک محدود نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ نام نہاد حکومت نے جبری گمشدگیوں کو جس انداز میں وسعت دی ہے، وہ فسطائیت کی بدترین مثال ہے۔ نام نہاد وزیرِ اعلیٰ بھی اس مسئلے کو متنازع بنانے میں پیش پیش رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف ریاستی نمائندے جبری گمشدگیوں کو کبھی خود روپوشی، کبھی کاؤنٹر انسرجنسی، اور کبھی دہشت گردی جیسے بیانیوں سے جوڑ کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹاتے رہے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ 5 جون 2025 کو نام نہاد صوبائی حکومت نے بلوچستان پریوینشن آف ڈیٹینشن اینڈ ڈی ریڈیکلائزیشن ایکٹ 2025 منظور کیا۔ اس ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص کو محض شبہ کی بنیاد پر بغیر ایف آئی آر تین ماہ تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ زیرِ حراست فرد کو عدالت میں پیش کیے بغیر ڈی ریڈیکلائزیشن کے نام پر ڈیٹینشن سینٹرز میں رکھا جا سکتا ہے، جہاں مکمل ثبوت کی بھی ضرورت نہیں۔قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زیرِ حراست شخص کے اہلِ خانہ کو 24 گھنٹوں کے اندر اطلاع دی جائے گی، جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ جبری گمشدگیوں کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ ایکٹ جبری گمشدگیوں کی ایک نئی اور خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد صرف دو ماہ کے اندر سینکڑوں بلوچوں کو محض شبہ کی بنیاد پر لاپتہ کیا گیا، جن میں سے اکثریت تاحال لاپتہ ہے اور ان کے اہلِ خانہ کو کسی قسم کی اطلاع نہیں دی گئی، جبکہ درجنوں افراد کو ماورائے عدالت قتل بھی کیا گیا۔
بی وائی سی کے مطابق پریوینشن اینڈ ڈیٹینشن ایکٹ بلوچ نسل کشی میں ایک نیا اضافہ ہے۔ اس میں چینی ماڈل کی نقل کی جا رہی ہے، جہاں چین میں ایغور مسلمانوں کو گرفتار کر کے ڈیٹینشن سینٹرز میں رکھا جاتا ہے اور وہاں ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے ان کی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرز پر پاکستان نے بلوچستان میں بھی یہ نظام نافذ کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈی ریڈیکلائزیشن کے نام پر جبری گمشدگیوں میں تیزی لائی گئی ہے، باقاعدہ ڈیٹینشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جہاں افراد کو شدید ذہنی و جسمانی تشدد اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں سیاسی سرگرمیوں سے دور رہنے، انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز نہ اٹھانے، بلوچ ثقافتی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کرنے اور ریاستی بیانیے کو قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ تین ماہ کی اس جبری حراست کے بعد اگر کوئی شخص رہا بھی ہو جائے تو وہ شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جانب جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کے گرد ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ لواحقین کو دباؤ میں لا کر پریس کانفرنسوں میں اپنے پیاروں سے لاتعلقی ظاہر کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، اور بعد ازاں انہی افراد کی لاشیں برآمد ہوتی ہیں۔
کمیٹی نے مزید کہا کہ ہم بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچ نسل کشی کی اس نئی شکل کے خلاف آواز اٹھائیں اور اپنے پیاروں کی جبری گمشدگیوں پر کسی صورت خاموش نہ رہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اسی طرح ہم عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں اور بلوچستان پریوینشن آف ڈیٹینشن اینڈ ڈی ریڈیکلائزیشن ایکٹ 2025 جیسے قوانین کے نفاذ کا فوری نوٹس لیں، اور ان واقعات سمیت اس قانون کے تحت ہونے والی گرفتاریوں کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔