بارکھان میں بمباری و شیلنگ سے خواتین و بچوں کی ہلاکتیں ، یہ ریاستی طاقت کی بے لگامی ہے، بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی( بی وائی سی ) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بارکھان میں پاکستانی فورسز کی جانب سے کی گئی بمباری اور اندھا دھند شیلنگ کے نتیجے میں خواتین اور معصوم بچوں سمیت قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ایک نہایت افسوسناک، دل دہلا دینے والا اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ یہ سانحہ ایک بار پھر اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ریاستی طاقت کس طرح بغیر کسی احتساب کے عام شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق بارکھان میں پیش آنے والا یہ اندوہناک واقعہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ اس تلخ تسلسل کی ایک اور کڑی ہے جہاں اجتماعی سزا کے طور پر پورے علاقوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ریاستی اداروں کا وطیرہ رہا ہے کہ کسی ایک حملے کے ردعمل میں پورے علاقے کو لپیٹ میں لینا، اور اس عمل میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کا جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا، اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ طاقت کا استعمال نہ صرف غیر متناسب ہے بلکہ انسانی جان کی حرمت کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

اس سانحے میں جاں بحق ہونے والوں میں:
علی ولد سلطان عمیر (40 سال)
بیبل بنت گلزار (30 سال)
میر جان ولد علی (2 سال)
سومری بنت بھنگان (35 سال)
بالاچ ولد سبزو (70 سال)
شاری (22 سال)
رحمان ولد بالاچ (18 سال)
نائخو بنت جمالان (17 سال)
اللہ بخش ولد بالاچ (6 سال)
سادو بنت بالاچ (13 سال)
ہاپو بنت بالاچ (8 سال)
مہرنگ ولد بالاچ (2 سال)

بیان میں کہا گیا کہ اسی کارروائی میں زر بی بی بنت شیر (55 سال)، ہزار خان ولد بالاچ (9 سال) اور اسرار بنت بالاچ (15 سال) شدید زخمی ہوئے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس حملے میں عام شہری براہ راست متاثر ہوئے۔

کمیٹی کے مطابق ریاستی اداروں کی جانب سے اس نوعیت کی کارروائیاں ایک خطرناک رجحان کو ظاہر کرتی ہیں، جہاں کسی ایک واقعے کے جواب میں پورے معاشرے کو سزا دی جاتی ہے۔ اجتماعی سزا کا یہ تصور نہ صرف بین الاقوامی اصولوں بلکہ بنیادی انسانی اقدار کے بھی منافی ہے۔ ایسے اقدامات نہ انصاف کو جنم دیتے ہیں اور نہ امن کو، بلکہ یہ نفرت، عدم اعتماد اور محرومی کو مزید گہرا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ انسانی جانوں کے اس طرح کے ضیاع کو کسی بھی بیانیے، سیکیورٹی جواز یا ریاستی مفاد کے تحت درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ عمل آئین و قانون کی روح کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ انسانیت کے بنیادی اصولوں سے بھی متصادم ہے۔

ہم اس سانحے کے متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتے ہیں۔ ایسے واقعات کو محض خبروں تک محدود رکھنا کافی نہیں، بلکہ ان کے خلاف سنجیدہ اور مؤثر ردعمل ناگزیر ہے۔

ترجمان نے کہا مزید یہ کہ یہ سوال بدستور قائم ہے کہ آخر کب تک عام شہریوں کو ریاستی بیانیے کا ایندھن بنایا جاتا رہے گا؟ کب تک مائیں اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتی رہیں گی، اور کب تک گھروں کے چراغ اسی طرح بجھتے رہیں گے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب نہ صرف ریاست بلکہ ہر اُس فرد اور ادارے کو دینا ہوگا جو اب تک مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

آخر میں بیان میں کہا گیا کہ بارکھان کا یہ سانحہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ اگر آج بھی اجتماعی طور پر آواز بلند نہ کی گئی تو کل یہی المیہ کسی اور بستی، کسی اور گھر اور کسی اور خاندان کا مقدر بن جائے گا۔ اس واقعے کے خلاف بلوچ قوم کا اجتماعی آواز بلند کرنا لازم ہے۔ ہم تمام زی شعور افراد سے گزارش کرتے ہے کہ وہ بلوچ نسل کشی کے خلاف مسلسل آواز بلند کرتے رہے اور بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کے پامالیوں کے خلاف دنیا بھر کو آگاہ کرتے رہے۔

Share This Article