بلوچ وومن فورم کی مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر شلی بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے ساتھ روا رکھے گئے غیر انسانی سلوک کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی انسان کو، خواہ اس کا تعلق کسی بھی پس منظر یا حیثیت سے ہو، بنیادی انسانی حقوق اور علاج معالجے کی سہولیات سے محروم رکھنا نہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت عمل ہے بلکہ یہ انسانی اقدار اور آئینی تقاضوں کے بھی منافی ہے۔ ایک مہذب معاشرے میں زیرِ حراست افراد کو بھی تمام بنیادی حقوق حاصل ہوتے ہیں، جن میں صحت کی سہولیات سرِفہرست ہیں۔
ڈاکٹر شلی بلوچ نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اس وقت ایک مقدمے کا سامنا کر رہی ہیں اور قانون کی نظر میں وہ محض ایک ملزمہ ہیں، جب تک جرم ثابت نہ ہو وہ بے گناہ تصور کی جاتی ہیں۔ اس کے باوجود انہیں بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھنا ناانصافی کو مزید بڑھانے کے مترادف ہے۔ صحت ہر انسان کا بنیادی حق ہے، جسے کسی بھی صورت سلب نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو فوری طور پر مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور مستند ڈاکٹروں کی نگرانی میں کسی مستند اسپتال میں ان کا باقاعدہ طبی معائنہ اور علاج یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ انسانی ہمدردی، انصاف اور قانون کی بالادستی کا تقاضا ہے کہ ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی نہ کی جائے۔
بیان کے اختتام پر ڈاکٹر شلی بلوچ نے کہا کہ انسانیت ہر چیز سے بالاتر ہے اور انسانی حقوق کا احترام ہر ریاست اور اس کے اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔