غیرقانونی حراست اور طبی غفلت : ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی حالت تشویشناک

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) نے کہا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر بی وائی سی رہنماؤں کی غیرقانونی حراست کو تقریباً ایک سال مکمل ہونے کو ہے، جبکہ ان کے خلاف قائم کیے گئے مقدمات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ کسی بھی قابلِ اعتبار ثبوت کی عدم موجودگی کے باوجود انہیں مسلسل جیل میں رکھا جا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ڈاکٹر ماہ ر نگ بلوچ کی صحت میں شدید بگاڑ پیدا ہوا، جس کے باوجود جیل انتظامیہ نے ان کی بارہا درخواستوں کے باوجود مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کیں۔ متعدد تحریری درخواستوں کے باوجود انہیں ڈاکٹر کے معائنے تک رسائی نہ دی گئی، جس کے بعد ان کی قانونی ٹیم نے عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت کے حکم پر جیل ڈاکٹر نے معائنہ کیا اور مختلف ٹیسٹ تجویز کیے، لیکن ڈاکٹر ماہ ر نگ کو کسی اسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔

بی وائی سی کے مطابق 18 فروری کو ڈاکٹر ماہ ر نگ کی حالت تشویشناک حد تک بگڑنے پر انہیں شیخ زید اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی لمبر اسپائن کا MRI کیا گیا۔

رپورٹ میں درج اہم نکات یہ ہیں:

  • لمبر اسپائن کی سیدھ میں تبدیلی، جو ممکنہ طور پر شدید پٹھوں کے کھچاؤ کا نتیجہ ہے۔
  • L4-L5 اور L5-S1 ڈسک میں پھیلاؤ، جس سے تھیگل سیک پر دباؤ پڑ رہا ہے۔
  • دونوں اطراف اعصابی راستوں میں تنگی اور نرو روٹ پر دباؤ۔
  • L4-L5 سطح پر مرکزی اینولر ٹیئر۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سنگین طبی صورتحال کے باوجود پولیس نے MRI رپورٹ ڈاکٹر مہرنگ اور ان کی قانونی ٹیم کو دینے سے انکار کیا اور اسے دس دن تک روک کر رکھا۔ مسلسل دباؤ کے بعد رپورٹ فراہم کی گئی۔

بی وائی سی نے کہا کہ ڈاکٹرز نے ڈاکٹر ماہ ر نگ کے لیے آرام اور مکمل طبی نگہداشت کی سفارش کی ہے، لیکن عدالت نہ صرف ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر رہی ہے بلکہ ایسے مقدمات میں طویل ٹرائل پر اصرار کر رہی ہے جن کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر ماہ ر نگ بلوچ نے ہمیشہ انسانی حقوق، انصاف اور پرامن جدوجہد کی بات کی ہے۔ انہیں طبی سہولیات سے محروم رکھنا اور غیرقانونی طور پر قید رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ڈاکٹر ماہ ر نگ بلوچ کی فوری طبی سہولیات، مناسب علاج اور ان سمیت تمام غیرقانونی طور پر قید بی وائی سی رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

Share This Article