بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں ماہِ فروری کی آپریشنل رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ 27 کارروائیوں میں دشمن کے 36 فوجی اہلکار ہلاک، واشک شہر پر قبضہ اور بھاری مقدار میں اسلحات ضبط کئے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے فروری 2026 میں قابض پاکستانی فوج، اس کے ذیلی اداروں، نام نہاد معاشی منصوبوں اور دفاعی تنصیبات پر حملوں میں غیر معمولی تیزی لاتے ہوئے مقبوضہ بلوچستان کے 16 مختلف علاقوں میں کاروائیوں کے دوران دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے۔ ان منظم کارروائیوں کا مقصد قبضہ گیر ریاست کے استحصالی ڈھانچے کی جڑوں کو کھوکھلا کرکے مفلوج کرنا اور بلوچ قومی وسائل کی لوٹ مار کو روکنا ہے۔ بی ایل ایف کی ان مسلح کارروائیوں کے نتیجے میں فروری کے مہینے میں مجموعی طور پر دشمن فوج کے 36 اہلکار ہلاک اور 3 شدید زخمی ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بی ایل ایف نے فروری کی سب سے اہم اور بڑی کارروائی واشک شہر میں سرانجام دیا جہاں سرمچاروں نے تزویراتی حکمت عملی کے تحت پورے شہر کا مکمل محاصرہ کرتے ہوئے قابض انتظامیہ کو بے بس کر دیا۔ اس آپریشن کے دوران سرمچاروں نے ڈپٹی کمشنر (DC) کے دفتر، ایس پی (SP) آفس اور نیشنل بینک سمیت تمام اہم سرکاری و دفاعی تنصیبات کو گھیرے میں لے لیا اور کئی گھنٹوں تک شہر کے مرکزی بازار اور انتظامی مراکز پر سرمچاروں کا مکمل کنٹرول رہا۔ یہ آپریشن اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ جذبہ آزادی سے سرشار سرمچاروں کی کامیاب عسکری حکمت عملی اور منظم کاروائیوں کے باعث دشمن کی گرفت مقبوضہ بلوچستان کے شہری مراکز میں بھی انتہائی مفلوج اور کمزور ہو چکی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ واشک شہر کے اس محاصرے کے دوران بی ایل ایف کی کاروائیوں میں دشمن کے 13 فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ سرمچاروں نے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کا تمام جدید اسلحہ اپنے قبضے میں لے لیا اور دو فوجی گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا۔ یہ معرکہ دشمن کے لیے ایک واضح پیغام تھا کہ بلوچستان کی سرزمین پر قابض فوج کے لیے اب کوئی جگہ محفوظ نہیں رہی ہے اور ہر قدم پر انھیں سرمچاروں کے مہلک حملوں اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تنظیم کے مطابق انٹیلی جنس کے محاذ پر بھی دشمن کو زک پہنچاتے ہوئے بی ایل ایف کے سرمچاروں نے گوادر میں ایک کامیاب کارروائی کے دوران ملٹری انٹیلیجنس (MI) کے ایک کلیدی اہلکار کو ہلاک کیا۔ مذکورہ اہلکار بلوچ فرزندوں کی جبری گمشدگیوں اور تحریک کے خلاف دشمن کے لیے مخبری کے نیٹ ورک کو منظم کرنے میں براہِ راست سرگرم عمل تھا۔ اسی طرح سرمچاروں نے مند کے علاقے میں دشمن کی بصری قوت کو زک پہنچانے کے لیے اس کے نصب کردہ نگرانی کے ایک جدید ترین کیمرے کو تباہ کیا۔ بی ایل ایف نے ماہِ فروری میں واشک، مند اور چاغی میں قابض فوج کی 4 فوجی گاڑیاں بارودی مواد اور راکٹوں کی مدد سے تباہ کر کے اس کی نقل و حمل کو محدود کر دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ عسکری پیش قدمی کے تسلسل میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے مشکے، جھاؤ، مند، آواران، بلیدہ، نال، خاران، پسنی، بارکھان اور دشت کے مختلف علاقوں میں دشمن کی 11 فوجی چیک پوسٹوں پر مربوط حملے کیے۔ جھاؤ کے علاقے میں دشمن کے ایک بڑے فوجی کیمپ اور ایم آئی (MI) کے دفتر کو بھی بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دشمن کا انٹیلیجنس نیٹ ورک بری طرح متاثر ہوا۔ ان حملوں سے تنظیم نے ثابت کر دیا ہے کہ سرمچار دشمن کی قلعہ بند پوسٹوں کو کسی بھی وقت نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شہری اور انتظامی مراکز میں قابض ریاست کے انتظامی ڈھانچے اور عملداری کو چیلنج کرتے ہوئے بی ایل ایف نے واشک، نال اور بارکھان میں 3 پولیس تھانوں پر قبضہ کر کے سرکاری اسلحہ اور بارود پر قبضہ کیا۔ ان کارروائیوں کا مقصد ایک طرف بلوچ عوام کو یہ باور کرانا ہے کہ ان کے وسائل اور زمین کا اصل محافظ سرمچار ہیں اور دوسری طرف قابض کے آلہ کاروں کو پیغام دینا کہ غداروں کے دن گنے جا چکے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ بی ایل ایف نے اقتصادی محاذ پر دشمن کے مالیاتی مفادات کو ضرب لگاتے ہوئے بلوچستان کے معدنی وسائل کو غیر قانونی طور پر لوٹ کر لے جانے والی گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک گاڑی کو وڈھ میں نذر آتش کیا۔ واضح رہے بی ایل ایف پہلے بھی واضح کر چکی ہے کہ قومی دولت کی لوٹ مار کی اجازت کسی بھی صورت نہیں دی جائے گی۔ اسی طرح زامران کے علاقے میں ایک کامیاب کارروائی کے دوران دشمن فوج کیلئے رسد (راشن) کی ایک بڑی مقدار کو سرمچاروں نے ضبط کیا۔ فروری میں بی ایل ایف نے مختلف عسکری کاروائیوں میں جھڑپوں کے دوران واشک، بارکھان اور نال سے دشمن کے 23 جدید ہتھیار اور بارود ضبط کیے۔
بیان میں کہا گیا کہ سرمچاروں نے مجموعی طور پر اس ماہ کی 27 کارروائیوں میں 11 مرتبہ بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ چاغی اور جھاؤ میں 2 آئی ای ڈی دھماکے، خاران میں 2 گرنیڈ لانچر حملے اور خضدار میں دستی بم حملے کیے گئے۔ جھاؤ کی شاہراہوں پر 2 فوجی قافلوں کو گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا جس سے دشمن کی رسد اور کمک بری طرح متاثر ہوا۔
میجر گہرام بلوچ کا کہنا تھا کہ وطنِ عزیز کی دفاع اور قومی آزادی کی اس عظیم جنگ میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے مذکوہ بالا کامیاب معرکوں کے دوران دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصانات پہچا کر اپنا عسکری اور اخلاقی برتری قائم رکھا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن فوج اور دیگر فورسز کے ساتھ مختلف جھڑپوں میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے چار جانباز سرمچاروں نے بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان میں کیپٹن حافظ عبدالوہاب عرف بابر 6 دسمبر 2025 کو تنظیمی امور کی انجام دہی کے سلسلے میں سفر کر رہے تھے کہ راستے میں دشمن فوج کے ساتھ ان کی جھڑپ ہوئی اور وہ آخری سانس تک دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ 25 جنوری 2026 کو شہید کیپٹن فاروق بلوچ عرف سہراب ولد محمد انور سکنہ پروم، پنجگور، عدیل بلوچ عرف حمید بلوچ ولد مراد جان سکنہ عیسیٰ، پنجگور، اور احمد بلوچ عرف دیدار ولد محمد سکنہ چتکان پنجگور، تسپ، پنجگور میں قابض پاکستانی فوج کے ساتھ جھڑپ میں دلیری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔
تنظیم کے مطابق ان شہداء نے آزادی کیلئے قابض فوج کے خلاف سینہ سپر ہو کر اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور دشمن پر ثابت کر دیا کہ فوجی طاقت اور جبر سے بلوچ عوام کی جدوجہد اور جذبہ آزادی کو کند اور کمزور کرنا ممکن نہیں ہے۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ ان قومی شہداء کو ان کی عظیم قربانی پر خراج عقیدت پیش کرتی ہے اور ان کے مشن کو آزادی کی منزل تک پہنچانے کے اپنے عہد کی تجدید کرتی ہے۔ شہداء کی عظیم قربانی کو یقیناً تاریخ سنہری حروف میں یاد رکھے گی۔ ان کا لہو ہماری تحریک کے لیے مشعلِ راہ ہے اور دشمن کو اس کی ہر بزدلانہ کارروائیوں اور مظالم کا جواب میدانِ جنگ میں دیا جائے گا۔