بی ایس ایف کے مرکزی ترجمان نے نواب خیربخش مری کی یوم ولادت کے مناسبت سے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ وہ محض ایک سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ ایک ہمہ جہت مفکر، نظریاتی مدبر، عظیم استاد اور محکوم اقوام کے لیے فکری رہبر کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی زندگی ایک فکر، ایک فلسفے اور ایک واضح نظریے کے تحت گزری، جس میں مفاد پرستی، مصلحت کوشی اور وقتی رجحانات کے لیے کوئی گنجائش نہ تھی۔انہوں نے تاریخ کے نہایت پیچیدہ اور متغیر ادوار میں اپنی نظریاتی استقامت کو برقرار رکھا۔ دنیا دو قطبی نظام سے یک قطبی اور پھر کثیرالقطبی سیاست کی طرف بڑھی، نظریاتی سیاست زوال پذیر ہوئی، انحراف اور موقع پرستی کو فروغ ملا، مگر اس مردِ آہن کے پائے ثبات میں کبھی لغزش نہ آئی۔ خطے کی سیاست کے نشیب و فراز، بلوچ وطن کے سیاسی حالات کی ناہمواریاں اور قریبی رفقا کی منفی روشیں اگرچہ باعثِ رنج رہیں، مگر ان کی چٹان جیسی استقامت کے سامنے یہ سب بے معنی ثابت ہوئیں۔ وہ میدانِ عمل میں ایک شہسوار کی مانند ڈٹے رہے اور بالآخر جدوجہد کی امانت نئی نسل کے سپرد کر کے سرخرو ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے۔
ترجمان نے مزید کہا نواب خیربخش مری کی جدوجہد صرف سیاسی محاذ تک محدود نہ تھی، بلکہ فکری و نظریاتی میدان میں بھی ان کا کردار غیر معمولی رہا۔ انہوں نے اپنی حیات میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، طویل جلاوطنی جھیلی اور اپنے جگرگوشے بالاچ مری کی شہادت کا ناقابلِ بیان صدمہ سہا، مگر ان تمام آزمائشوں کے باوجود انہوں نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف بلوچ قوم بلکہ دنیا بھر کے مظلوم اور محکوم عوام کے لیے عزم، وقار اور مزاحمت کی علامت بن گئے۔ان کی شخصیت کا اثر بالخصوص،بلوچ نوجوانوں پر نہایت گہرا اور دیرپا ہے۔ وہ نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں، جنہوں نے انہیں یہ شعور عطا کیا کہ اپنی شناخت، زبان، ثقافت اور اجتماعی وجود کی حفاظت صرف آزادی، خودمختاری اور باوقار جدوجہد سے ہی ممکن ہے۔ ان کی فکری بصیرت اور نظریاتی تعلیمات آج بھی بلوچ نوجوانوں کے دل و دماغ کو منور کر رہی ہیں اور آنے والی صدیوں تک حوصلہ، توانائی اور سمت فراہم کرتی رہیں گی۔
ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ آج ان کی یوم پیدائش کےموقع پر ہم ان کے مشن کو آگے بڑھانے کا عہد کرتے ہیں۔ نواب خیر بخش مری کی زندگی کا ہر لمحہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصولوں پر قائم رہ کر ہی ہم اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمیں ان کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے کے حقوق کی جدوجہد کو جاری رکھنا ہوگا اور اس کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔آج ان کی یوم ولادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حق و انصاف کے لیے کی جانے والی جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ اصولوں پر قائم رہنا اور مشکلات کا سامنا کرنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔