بلوچستان میں جبری لاپتہ نوجوانوں کا ماورائے عدالت قتلِ عام،بی وائی سی کا احتجاج

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) نے 17 سالہ طالبعلم منظور بلوچ اور 26 سالہ یونیورسٹی طالبعلم عمران تاج بلوچ کی جبری گمشدگی کے بعد ماورائے عدالت قتل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعات بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی ایک مسلسل اور خطرناک لہر کی عکاسی کرتے ہیں۔

تنظیم کے مطابق منظور بلوچ، جو صرف 17 سال کا آٹھویں جماعت کا طالبعلم تھا، 8 جولائی 2025 کو رات ایک بجے اپنے گھر سے جبراً لاپتہ کیا گیا۔ اس کے والد نے نو ماہ تک دربدر ہو کر اپنے بیٹے کی بازیابی کی اپیل کی، مگر کوئی عدالت، کوئی ادارہ، کوئی قانون ان کی فریاد نہ سن سکا۔ 26 فروری 2026 کو اس کی لاش کیچ کور، تربت سے ملی—رمضان کے مقدس مہینے میں اس کے والدین کو انصاف کے بجائے اپنے بچے کی لاش تھما دی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ اسی طرح، عمران تاج بلوچ، جو یونیورسٹی آف تربت کے IBLC ڈیپارٹمنٹ کا طالبعلم تھا، 27 جون 2025 کو یونیورسٹی سے گھر جاتے ہوئے سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں جبراً لاپتہ ہوا۔ 27 فروری 2026 کو اس کی لاش بھی کیچ کور سے ملی، جس پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔ ایک تعلیم یافتہ نوجوان، ایک روشن مستقبل—سب کچھ چند لمحوں میں چھین لیا گیا۔

بی وائی سی کے مطابق یہ واقعات نہ صرف دو خاندانوں کا دکھ ہیں بلکہ بلوچستان میں قانون کی بالادستی، بچوں کے تحفظ، شہری آزادیوں اور انسانی وقار کی کھلی پامالی ہیں۔ جبری گمشدگی، بغیر مقدمہ حراست، تشدد، ماورائے عدالت قتل ،یہ تمام اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین، بچوں کے تحفظ کے عالمی کنونشنز اور آئینی ضمانتوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

بی وائی سی نے کہا کہ ایک 17 سالہ بچہ ریاست کے لیے کس قسم کا خطرہ ہو سکتا ہے؟ اگر قانون موجود ہے تو وہ سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ اگر کسی پر الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے، لاپتہ یا قتل نہ کیا جائے۔ نوجوانوں کو خاموش کر کے قوم کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ ظلم امن نہیں لاتا، بلکہ مزید بے چینی اور مزاحمت کو جنم دیتا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اقوام متحدہ، عالمی انسانی حقوق تنظیموں اور قانونی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کا فوری نوٹس لیا جائے۔ آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ بچوں اور نوجوانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

تنظیم نے مزید کہا کہ بلوچ قوم کی جدوجہد نفرت پر نہیں بلکہ انسانی وقار، انصاف اور بنیادی حقوق کے لیے ہے۔کوئی خاندان اپنے بچوں کی لاشیں اٹھانے کے لیے پیدا نہیں ہوتا۔کوئی قوم مسلسل خوف میں نہیں جی سکتی۔اور کوئی ظلم ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔

Share This Article