پسنی، خاران و دشت میں پاکستانی فوج پر حملوں میں 5 اہلکار ہلاک، زامران میں فوجی راشن ضبط کرلئے، بی ایل ایف

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

 بلوچستان لبریشن فرنٹ ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں پسنی، خاران اور دشت میں پاکستانی فوج کی چیک پوسٹوں پر حملوں میں 5 اہلکاروں کی ہلاکت، اور زامران میں فوجی راشن ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 24 فروری کو پسنی کے علاقے کلانچ میں ڈوکانی کے مقام پر قائم پاکستانی فوج کی چیک پوسٹ پر دو اطراف سے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ سرمچاروں نے یہ کارروائی انتہائی قریب سے انجام دی جس کے نتیجے میں پانچ فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
 
انہوں نے کہا کہ اسی روز ایک اور کارروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے خاران شہر میں گزّی روڈ پر قائم فوجی چیک پوسٹ پر گرنیڈ لانچرز سے گولے داغے، جو اپنے نشانے پر جا لگے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں فوج کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
 
بیان میں کہا گیا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 25 فروری کو ایک کارروائی میں دشت کے علاقے سنگائی میں سی پیک روڈ پر قائم پاکستانی فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ یہ چیک پوسٹ مقامی گاڑیوں کی نگرانی کے لیے قائم کی گئی تھی جو عوام کو تنگ کرتے تھے۔ حملے کے دوران سرمچاروں نے فوجی چیک پوسٹ پر متعدد راکٹ داغے جو اپنے ہدف پر لگے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں فوج کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
 
تنظیم کے مطابق اسی روز ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے قابض فوج کے لیے رسد لے جانے والی ایک گاڑی کو زامران کے علاقوں نوانو اور گیشردان کے درمیان تحویل میں لے لیا۔ متعلقہ گاڑی میں دشمن فوج کیلئے موجود خورد و نوش کی اشیاء سمیت ان کے دیگر سامان اور ضروری اشیاء کو قبضے میں لے کر ضبط کر دیا۔
 
آخر میں ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ پسنی کے علاقے کلانچ میں فوجی چیک پوسٹ پر حملے میں 5 اہلکاروں کی ہلاکت، خاران اور دشت میں قائم چیک پوسٹوں پر حملوں اور زامران میں فوجی راشن ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ 

Share This Article