بلوچ طلبا کی تنظیم ’بلوچ سٹوڈنٹس کونسل‘ نے تصدیق کی ہے گذشتہ روز اسلام آباد سے جبری لاپتہ کئے گئے اُن کے سابق رُکن نبیل ارمان واپس آ گئے ہیں۔
اس سے قبل بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد نے کہا تھا کہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے گریجویٹ اور سابق رکن بی ایس سی اسلام آباد نبیل ارمان کو بدھ کی شام تقریباً ساڑھے چھ بجے جی-7 اسلام آباد سے سادہ کپڑوں میں ملبوس چند افراد نے جبری لاپتہ کیا تھا۔
تنظیم کے بیان کے مطابق نبیل ارمان نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز سے انگریزی ادب میں فارغ التحصیل ہیں اور پیشہ ورانہ طور پر کلائمیٹ ایکشن اور توانائی تک رسائی کے شعبے سے وابستہ تھے۔
تاہم اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے اس نوعیت کے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔
تنظیم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب نبیل وفاقی دارالحکومت کے ایک نجی دفتر میں موجود تھے۔
تنظیم کے مطابق ’سادہ کپڑوں میں ملبوس چند افراد نے دفتر میں آ کر نبیل کو سوال و جواب کی غرض سے الگ گیا اور جاتے ہوئے وہ زبردستی نبیل کے اپنے ساتھ لے گئے۔ باہر لے جا کر انھیں ایک سفید رنگ کی لینڈ کروزر میں بٹھایا گیا۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ نبیل کو شالیمار تھانہ لے کر جایا جا رہا ہے لیکن بعد میں معلوم کرنے پر نہ تو وہ گاڑی اور نہ ہی نبیل شالیمار تھانے گئے تھے۔‘
اسلام آباد میں بلوچ طلبا تنظیم کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ نبیل کی گمشدگی کے حوالے سے انھوں نے آبپارہ تھانے میں درخواست جمع کروائی تھی تاہم پولیس نے انھیں اس کی کوئی رسید نہیں دی تھی۔
تاہم اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان دعوؤں کی تردید کی تھی۔ پولیس ترجمان کا کہنا تھا پولیس کو نہ تو اس نوعیت کے کسی واقعہ کا علم ہے اور نہ ہی آبپارہ تھانہ میں اس حوالے سے کوئی درخواست موصول ہوئی ہے۔
اب بی ایس سی اسلام آباد نے تصدیق کی ہے کہ نبیل ارمان بازیاب ہوگئے ہیں ۔