بلوچستان کے ضلع پنجگور میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ کے بعد زخمی حالت میں جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے گئے نوجوان اویس احمد بلوچ کو قتل کرکے اس کی لاش پھینک دی گئی ہے۔
اویس احمد کو ضلع پنجگور سے پاکستانی فورسز نے 3 بھائیوں اور ایک دیگر نوجوان کے ساتھ حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا تھا۔
یہ کارروائی گزشتہ رات پنجگور کے علاقے خدابادان میں کی گئی، جہاں متعدد گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق چھاپوں کے دوران خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا گیا جبکہ گھروں میں موجود سامان کی توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔
لاپتہ ہونے والوں کی شناخت بختیار ولد حاجی محمد حسن، عرفان ولد حاجی محمد حسن، بلال ولد حاجی محمد حسن، اویس احمد ولد یار محمد اور حسن ولد خلیل کے ناموں سے ہوئی ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق بختیار، عرفان اور بلال آپس میں سگے بھائی ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران فائرنگ بھی کی گئی جس میں اویس احمد زخمی ہوئے۔
اہلِ خانہ کا دعویٰ تھا کہ فورسز انہیں زخمی حالت میں اپنے ساتھ لے گئی ہیں۔
اب اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ اویس احمد کو قتل کرکے ان کی لاش پھینک دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں ریاستی بربریت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں جبری گمشدگیوں کے بعد نوجوانوں کو دورانِ حراست قتل کرکے انہیں مسلح افراد کے طور پر ظاہر کرنے کا عمل معمول بن چکا ہے۔