بلوچستان اسمبلی نے مقامی اور پاکستانی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کی قرارداد مشترکہ طور پر منظور کرلی۔
قرارداد رکن اسمبلی اصغر علی ترین کی جانب سے پیش کی گئی، جس میں پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان کے وسیع رقبے اور جغرافیائی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچستان اسمبلی کی نشستیں 85 جبکہ پاکستانی اسمبلی میں بلوچستان کی نشستیں 28 کی جائیں۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ بلوچستان پاکستان کے کل رقبے کا 44 فیصد حصہ رکھتا ہے اور وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود پسماندگی اور بنیادی مسائل کا شکار ہے، اس لیے حقیقی نمائندگی میں اضافہ ناگزیر ہے۔
بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر یونس زہری نے کہا کہ بلوچستان کو آبادی کے ساتھ ساتھ رقبے کے لحاظ سے بھی نشستیں ملنی چاہئیں کیونکہ حلقہ ہائے انتخاب بہت وسیع ہیں اور عوامی مسائل پر توجہ دینا ضروری ہے۔
صادق عمرانی نے کہا کہ نشستوں میں اضافے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔
رحمت صالح بلوچ نے یاد دلایا کہ نشستوں میں اضافے کی قرارداد 2017 میں سینیٹ میں بھی پیش کی جا چکی ہے اور پارلیمانی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے نمائندگی بڑھانا ضروری ہے۔
زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان کی پسماندگی کو دیکھتے ہوئے نشستوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ظہور بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کے خراب حالات میں بیرونی عناصر بھی ملوث ہیں اور سیاسی نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض اراکین نے پاکستانی اسمبلی میں بلوچستان کی نشستیں 40 تک بڑھانے کی تجویز بھی پیش کی۔
دریں اثنا کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں شائع ہونے والے اخبارات کی قارئین تعداد کم ہے، اس لیے حکومت نئی میڈیا پالیسی مرتب کر رہی ہے اور ڈیجیٹل میڈیا کی طرف پیش رفت کی جا رہی ہے۔
انہوں نے اخبارات کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ملازمین کو سرکاری پالیسی کے مطابق تنخواہیں ادا کریں۔
اجلاس میں صحت کے شعبے کی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ مولانا ہدایت الرحمن نے توجہ دلاؤ نوٹس پر کہا کہ مالی سال کا بڑا حصہ گزرنے کے باوجود سرکاری اسپتالوں میں ادویات فراہم نہیں کی جا سکیں، جس سے غریب مریض شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے ادویات کی عدم فراہمی کی وجوہات سے متعلق تفصیلات طلب کیں۔