بلوچستان کے علاقے پنجگور اور زامران سے 3 افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گا۔
ضلع پنجگور میں نامعلوم مسلح گاڑی سواروں کی جانب سے مزید 2 افراد کو اغوا کر لیا گیاہے۔
ذرائع کے مطابق وہاب بلوچ کو چتکان کے علاقے سے جبکہ عبدالحلیم کو خدابادان میں بعد از نمازِ تراویح گن پوائنٹ پر گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسلح افراد گاڑی میں سوار تھے اور دونوں واقعات میں اسلحہ کے زور پر افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔
متاثرہ افراد کے اہلِ خانہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب ضلع کیچ کے علاقے نوانو زامران کے رہائشی نجیب اللہ ولد معتبر محمد حسن کو 18 فروری 2026 کو سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لے لیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں اہلِ خانہ کو کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔
خاندانی ذرائع کے مطابق نجیب اللہ جامع مسجد نوانو زامران کے پیش امام کے ہمراہ گلی کوچگ میں گئے تھے۔ واپسی پر دونوں کو سیکیورٹی فورسز نے تحویل میں لیا۔ بعد ازاں پیش امام کو رہا کر دیا گیا، تاہم نجیب اللہ تاحال فورسز کی تحویل میں ہیں۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ نجیب اللہ شدید جسمانی عوارض میں مبتلا ہیں۔ وہ بلڈ پریشر، دل اور گردوں کے امراض کا شکار ہیں اور اس حوالے سے ان کی تمام طبی رپورٹس موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق وہ چھ ماہ تک انتہائی نگہداشت میں زیر علاج رہے اور زندگی و موت کی کشمکش سے گزرنے کے بعد اب بھی مستقل ادویات کے محتاج ہیں۔
گھر والوں کا کہنا ہے کہ ایسی نازک صحت کی حالت میں ان کی عدم دستیابی شدید تشویش اور ذہنی اذیت کا سبب بن رہی ہے۔ اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر نجیب اللہ سرکاری تحویل میں ہیں تو ان کی صحت اور قانونی حیثیت سے متعلق فوری آگاہ کیا جائے اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔