جھاؤ، خاران اور گوادر حملوں میں 2 فوجی اہلکار اور ایک ایم آئی ایجنٹ کو ہلاک کیا،بی ایل ایف

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں جھاؤ، خاران اور گوادر حملوں میں 2 فوجی اہلکاروں اور ایک ملٹری انٹیلی جنس ایجنٹ کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے آٹھ فروری کو جھاؤ میں آواران لسبیلہ شاہراہ پر پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو اُس وقت نشانہ بنایا جب وہ ایک آئی ای ڈی بم کو ناکارہ بنانے کی کوشش کررہے تھے۔ بم دھماکے کے نتیجے میں دو فوجی اہلکار موقع پر ہلاک ہو گئے۔
 
ترجمان کے مطابق ایک اور کارروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 18 فروری کو خاران شہر کے جنوبی بائی پاس کے قریب قائم فورسز کی چیک پوسٹ کو گرینیڈ لانچر اور دیگر خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں فورسز کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
 
انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں 15 فروری کو سرمچاروں نے موصولہ انٹیلی جنس اطلاع کی بنیاد پر گوادر کے علاقے پیشکان میں کارروائی کرتے ہوئے قابض فوج اور ملٹری انٹیلی جنس کے آلہ کار، اکمل ولد نصیر، سکنہ فیصل آباد، پنجاب کو ہلاک کر دیا۔
 
بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ آلہ کار بھیس بدل کر قابض فوج کی معاونت کرتا رہا اور سیاسی نوجوانوں کی نشاندہی، علاقوں میں سرمچاروں کی سرگرمیوں اور دیگر حساس معلومات دشمن فوج کو فراہم کرتا رہا۔ تنظیم کی انٹیلی جنس ٹیم کئی دنوں تک اس کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھی۔ جب یہ قابض فوج کے ساتھ ملوث پایا گیا، تو سرمچاروں نے اسے نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا۔
 
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ جھاؤ، خاران اور گوادر حملوں میں دو پاکستانی فوجی اہلکاروں اور ایک ملٹری انٹیلی جنس ایجنٹ کے ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔

Share This Article