طالبان پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے مینڈیٹ میں توسیع پر ذبیح اللہ مجاہد کا ردعمل

ایڈمن
ایڈمن
1 Min Read

افغانستان میں طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس قرارداد کی منظوری پر ردعمل دیا ہے جس کے ذریعے طالبان کے خلاف پابندیوں کی نگرانی کرنے والے گروپ کے مینڈیٹ میں مزید 12 ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ یہ ایک ’غیر منصفانہ فیصلہ‘ اور ’ماضی کے ناکام تجربات کو دہرانا‘ ہے جس کا کوئی واضح نتیجہ نہیں نکلا۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے یہ بھی کہا کہ ’افغانستان میں اب سلامتی اور استحکام ہے جو دنیا اور تمام ممالک کے مفاد میں ہے اور ان کی حکومت تمام فریقوں کے ساتھ اچھے روابط اور اچھے تعلقات کی خواہاں ہے۔‘

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اقوام متحدہ کے اس طرح کے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ ’یہ ادارہ اپنے فیصلوں میں خود مختار نہیں اور ان ممالک کے زیر اثر ہے جنھوں نے افغانستان پر قبضہ کیا اور یہاں جنگ جاری رکھی۔‘

Share This Article