افغانستان میں طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس قرارداد کی منظوری پر ردعمل دیا ہے جس کے ذریعے طالبان کے خلاف پابندیوں کی نگرانی کرنے والے گروپ کے مینڈیٹ میں مزید 12 ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ یہ ایک ’غیر منصفانہ فیصلہ‘ اور ’ماضی کے ناکام تجربات کو دہرانا‘ ہے جس کا کوئی واضح نتیجہ نہیں نکلا۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے یہ بھی کہا کہ ’افغانستان میں اب سلامتی اور استحکام ہے جو دنیا اور تمام ممالک کے مفاد میں ہے اور ان کی حکومت تمام فریقوں کے ساتھ اچھے روابط اور اچھے تعلقات کی خواہاں ہے۔‘
ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اقوام متحدہ کے اس طرح کے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ ’یہ ادارہ اپنے فیصلوں میں خود مختار نہیں اور ان ممالک کے زیر اثر ہے جنھوں نے افغانستان پر قبضہ کیا اور یہاں جنگ جاری رکھی۔‘