بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6079ویں روز میں داخل ہوگیا۔
احتجاجی کیمپ میں مختلف لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی شرکت کا سلسلہ جاری ہے۔
اس موقع پر جبری لاپتہ کمسن طالب علم حسنین احمد سمالانی کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی اور اپنے بیٹے کی بازیابی کا مطالبہ دہرایا۔
اہل خانہ کے مطابق 16 سالہ حسنین احمد ولد بابل جان سمالانی، جو ایک طالب علم ہیں، کو 3 فروری کو سریاب کسٹم کلی اصغر آباد، کوئٹہ سے مبینہ طور پر ملکی اداروں نے حراست میں لیا، جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حسنین کی عدم بازیابی نے پورے خاندان کو شدید ذہنی اذیت اور کرب میں مبتلا کر رکھا ہے۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اس موقع پر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ کمسن طالب علم حسنین احمد کو فوری طور پر بازیاب کر کے ان کے اہل خانہ کو اذیت سے نجات دلائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے اور تمام لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے۔
احتجاجی مظاہرین نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعلقہ حکام سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کریں۔