بلوچستان کے علاقے نوشکی سے اطلاعات ہیں کہ پاکستانی فورسز نے 22 افرادکو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے جن کے حوالے سے اب کوئی اطلاع نہیں ہے۔
جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے گئے افراد کی شناخت تاحال سامنے نہیں آسکی۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ افراد کو نوشکی کے علاقے کلی مینگل و قادر آباد میں اس وقت حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا جب فورسز کی بڑی تعداد نے علاقوں کو گھیرے میں لے کر تلاشی کی کارروائی شروع کی تھی۔
ذرائع کہتے ہیں کہ اس دوران متعدد گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی گئی اور مکینوں کو زد و کوب کیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ کئی روز سے نوشکی کے مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن جاری ہے، جس میں متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
نوشکی میں بلوچ لبریشن آرمی کے حملوں اور چھ روز تک شہر پر کنٹرول کے بعد پاکستانی فورسز نے آبادی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی ہیں، جن میں گھروں کی تباہی کی ویڈیوز بھی سامنے آچکی ہیں۔
آج حراست کے بعد جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والوں کی شناخت تاحال موصول نہیں ہوئی، تاہم آخری اطلاعات تک دونوں علاقے بدستور پاکستانی فورسز کے محاصرے میں ہے۔