بنگلہ دیش میں 13ویں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے جو مقامی وقت کے مطابق شام 4:30 بجے تک جاری رہے گا۔
یہ الیکشن کئی وجوہات کی بنا پر اہم اور ماضی میں ہونے والے انتخابات سے مختلف ہے۔
سنہ 2024 میں ملک میں پرتشدد مظاہروں کے بعد شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا، جس کے بعد ان کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے اور وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتی۔
دہائیوں بعد ایسا ہو رہا ہے کہ ان انتخابات میں ملک کی دو اہم سیاسی شخصیات یعنی شیخ حسینہ اور خالدہ ضیا شامل نہیں۔
انتخابات میں پہلی بار جماعت اسلامی الیکشن میں حصہ لے رہی ہے اور اس کے اتحاد میں حسینہ واجد حکومت کے خلاف حالیہ اٹھے والی طلبا تحریک جو اب ” نیشنل سٹیزن پارٹی "کی شکل دھار چکی ہے سمیت 10 دیگر چھوٹی پارٹیاں شامل ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی جو خالدہ ضیا کی پارٹی ہے اسے اس کے بیٹے لیڈ طارق رحمان کر رہے ہیں اس کےاتحاد میں بھی 7 سے 8 چھوٹی پارٹیاں شامل ہیں ۔
کہا جارہا کہ جماعت اسلامی اور بی این پی درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔
ووٹرز ملک کے لیے صرف نئی حکومت کا انتخاب نہیں کر رہے بلکہ وہ ایک آئینی ریفرنڈم کے لیے بھی ووٹ دیں گے جو فیصلہ کرے گا کہ آیا جولائی کے چارٹر، ایک وسیع اصلاحاتی پیکج پر عمل درآمد کیا جائے یا نہیں۔
ان انتخابات میں بیرون ملک مقیم بنگلہ دیشی ووٹرز کی طرف سے بھیجے گئے بیلٹ بھی پہلی بار قبول کیے جا رہے ہیں۔