عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں بی وائی سی کی سفارتی سرگرمیاں، سمی بلوچ کی اقوامِ متحدہ نمائندوں کو بلوچستان کی صورتحال پر بریفنگ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) کی مرکزی رکن سمی دین بلوچ نے پاکستان کے شہر لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس 2026 میں شرکت کے دوران اقوامِ متحدہ کے مختلف خصوصی نمائندوں، سفارتکاروں، سیاسی شخصیات، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے اہم ملاقاتیں کیں۔

ان ملاقاتوں میں انہوں نے بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

سَمّی دین بلوچ نے محترمہ جینا رومیریو (UN Special Rapporteur on Freedom of Peaceful Assembly)، محترمہ ریم السالم (UN Special Rapporteur on Violence Against Women and Girls)، اور ایڈ او’ڈونوون (سینئر ایڈوائزر برائے UN Special Rapporteur on Human Rights Defenders) سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کی آزادی کو منظم طور پر محدود کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی جبر کے خلاف آواز اٹھانے والے شہریوں کو احتجاج کے بنیادی حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بلوچ خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے ریاستی تشدد پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا، جس میں خواتین اور کم عمر لڑکیوں کی جبری گمشدگیاں، اور بلوچ خواتین بشمول ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی غیر قانونی گرفتاریوں کے واقعات شامل ہیں۔

مزید برآں، انہوں نے انسانی حقوق کے محافظوں کو درپیش خطرات، جیسے دھمکیوں، ہراسانی، جبری گمشدگیوں، من مانی گرفتاریوں اور ٹارگٹ کلنگز کے واقعات کو بھی نمایاں کیا، جن میں ڈاکٹر ما ہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ اور دیگر کے کیسز شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے نمائندوں نے ان خدشات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کو عالمی فورمز پر مؤثر انداز میں اٹھائیں گے اور ان سنگین خلاف ورزیوں کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی اس بات پر زور دیتی ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی بحالی، جبری گمشدگیوں کا خاتمہ، اور شہری آزادیوں کا احترام ہی پائیدار امن اور انصاف کی بنیاد ہے۔

Share This Article