بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ آپریشن ہیروف دوم کے دوران بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے سترہ اہلکاروں کو مختلف محاذوں پر گرفتار کیا تھا، ابتدائی جانچ کے بعد ان میں سے دس اہلکاروں کو بلوچ اور مقامی پولیس و لیویز سے وابستگی کے باعث وارننگ دے کررہا کردیا گیا، یہ فیصلہ زمینی حقائق، مقامی شناخت اور بلوچ عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔
ترجمان نے کہاکہ باقی سات اہلکار، جو قابض پاکستانی فوج کے ریگولر یونٹس سے وابستہ تھے، بی ایل اے کی تحویل میں رہے۔ ان کے خلاف بلوچ قومی عدالت میں باضابطہ سماعت عمل میں لائی گئی۔ اس عدالتی کارروائی کے دوران ان پر جنگی جرائم، شہری آبادیوں کے خلاف کارروائیوں، جبری گمشدگیوں میں معاونت، اور بلوچ نسل کشی کے عمل میں عملی شرکت کے الزامات عائد کیئے گئے۔ عدالتی عمل کے دوران ملزمان کو صفائی کا موقع دیا گیا، شواہد پیش کیئے گئے، اور اقبالِ جرم کے بیانات ریکارڈ پر لائے گئے۔ تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے انہیں الزامات کا مرتکب قراردیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ تاہم بلوچ لبریشن آرمی کے کمانڈ کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ بین الاقوامی جنگی اصولوں اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق رائج ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو سات دن کی مہلت دی جائے گی۔ اس مدت کے دوران اگر قابض ریاست باضابطہ طور پر جنگی قیدیوں کے تبادلے کے لیئے آمادگی ظاہر کرتی ہے، تو یہ سات فوجی اہلکار بلوچ جنگی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں تبادلہ کیئے جاسکتے ہیں۔
مزید کہاہےکہ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے، اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر قابض فوج کو جنگی قیدیوں کے تبادلے کی پیشکش کی گئی تھی، مگر پاکستانی فوج نے سنجیدہ پیش رفت کے بجائے اپنے اہلکاروں کی جانوں کو نظر انداز کیا اور تبادلے کے عمل کو آگے نہیں بڑھایا۔
موجودہ اعلان کے ذریعے ایک بار پھر واضح کیا جاتا ہے کہ گرفتار شدہ سات فوجی اہلکاروں کی رہائی بلوچ جنگی قیدیوں کی رہائی سے مشروط ہے۔ اگر ایک ہفتے کے اندر قابض پاکستان کی جانب سے عملی اور باضابطہ پیش رفت نہیں کی جاتی، تو بلوچ قومی عدالت کے فیصلے کے مطابق ان پر دی گئی سزائے موت پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
آخر میں کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ جنگی حالات میں بھی اصول، ضابطے اور باہمی ذمہ داریاں موجود رہتی ہیں۔ اب فیصلہ قابض پاکستانی ریاست کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اپنے اہلکاروں کی جانوں کے تحفظ کے لیئے سنجیدہ قدم اٹھاتی ہے یا حسبِ سابق خاموشی اور لاتعلقی اختیار کرکے اپنے کرائے کے سپاہیوں کی موت کو ترجیح دیتی ہے۔