آج ہم یورپی اکیلے ہیں، ہمیں عالمی طاقت بن کر سامنے آنا چاہیے، فرانسیسی صدر

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں نے یورپ پر زور دیا ہے کہ وہ دنیائے عالم پر اپنا لوہا منوائے اور کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یورپ ایک ’طاقت‘ کی طرح ابھر کر سامنے آئے۔

چین، روس اور اب امریکہ سے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر انھوں نے یورپی اخبارات کے ایک گروپ کو بتایا کہ براعظم کو ایک ’ویک اپ کال‘ کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’کیا ہم طاقت بننے کے لیے تیار ہیں؟ یہ سوال معیشت اور مالیات، دفاع اور سلامتی، اور ہمارے جمہوری نظاموں کے میدان میں ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’کسی اور دور میں ہم کہہ سکتے تھے کہ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اکثریت کو تسلیم کریں۔‘ یہ بیان انھوں نے اس ہفتے برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے اجلاس سے قبل دیا۔

میخوان نے یورپی یونین کے مشترکہ قرضوں کی دوبارہ اپیل کی تاکہ صنعتی سرمایہ کاری کے لیے سینکڑوں ارب یورو اکٹھے کیے جا سکیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ’ہم مستقبل کے اخراجات کے لیے مشترکہ قرض کی صلاحیت شروع کریں – مستقبل کے یوروبانڈز۔ ہمیں بہترین منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے بڑے یورپی پروگراموں کی ضرورت ہے۔‘

ماضی میں ایسی اپیلوں کو جرمنی اور دیگر ممالک کی جانب سے شکوک و شبہات کا سامنا رہا ہے، جو سمجھتے ہیں کہ فرانس یورپ کو اس مالی بوجھ میں شریک کرنا چاہتا ہے جسے وہ خود – اصلاحات نہ کرنے کی وجہ سے – برداشت کرنے کے قابل نہیں۔

ایمانوئل میخواں نے اعتراف کیا کہ فرانس ’کبھی متوازن ماڈل نہیں رہا، برخلاف شمالی معیشتوں کے جو زیادہ ذمہ داری کے احساس پر قائم ہیں۔ اور ہمارے پاس کبھی وہ اصلاحات نہیں رہیں جیسی 2010 کی دہائی میں پرتگال، سپین، اٹلی اور یونان میں کی گئیں، جو آج ثمر دے رہی ہیں۔‘

لیکن انھوں نے کہا کہ دنیا کی مالیاتی منڈیوں میں مشترکہ یورپی قرض کی بڑھتی ہوئی مانگ ہے، جسے فی الحال یورپی یونین فراہم کرنے کے قابل نہیں۔

انھوں نے کہا کہ دنیا کی منڈیاں امریکی ڈالر سے بڑھتی ہوئی خوفزدہ ہیں۔ وہ متبادل چاہتی ہیں۔۔ دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک جمہوری ریاست قانون کی حکمرانی کے ساتھ ایک بڑی کشش ہے۔ اور جب میں دنیا کو دیکھتا ہوں جیسی یہ ہے، تو ایک طرف چین کی آمرانہ حکومت ہے، اور دوسری طرف امریکہ ہے جو قانون کی حکمرانی سے مزید دور جا رہا ہے۔

ایمانوئل میخواں کے مطابق یورپی یونین کو سلامتی و دفاع، صاف توانائی اور مصنوعی ذہانت کے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے سالانہ 1.2 ٹریلین یورو کی ضرورت ہے۔

انھوں نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ ان صنعتوں کو ’تحفظ‘ فراہم کرے۔ انھوں نے کہا کہ ’چینی ایسا کرتے ہیں، امریکی بھی۔

انھوں نے کہا کہ ’آج یورپ ایک بڑے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے، ایک بے ترتیبی کی دنیا میں۔ موسمیاتی تبدیلی تیز ہو رہی ہے۔ امریکہ، جس کے بارے میں ہم سوچتے تھے کہ وہ ہمیشہ ہماری سلامتی کی ضمانت دے گا – اب یقینی نہیں۔ روس ہمیں ہمیشہ سستی توانائی دینے والا تھا، لیکن یہ تین سال پہلے ختم ہو گیا۔ چین ایک ایسا حریف بن گیا ہے جو دن بہ دن زیادہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔ آج ہم یورپی اکیلے ہیں۔ لیکن ہمارے پاس ایک دوسرا آپشن ہے۔ ہم 450 ملین لوگ ہیں۔ یہ بہت بڑی طاقت ہے۔ میرے لیے (طاقت بننا) یورپی سفر کی تکمیل ہے۔ ہم جنگ روکنے کے لیے اکٹھے ہوئے، ہم نے ایک منڈی بنانے کے لیے اکٹھے ہوئے۔ لیکن ہم نے ہمیشہ خود کو طاقت کے بارے میں سوچنے سے روکا۔‘

واشنگٹن کے ساتھ گرین لینڈ کے تنازعے کے بارے میں ایک سوال پر میخواں نے کہا کہ یورپیوں کو دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔

Share This Article