حوا دروشم کی مسکراہٹ اور آزادی کی شمع | دلجان بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

جنگ کے میدان میں بعض اوقات بندوق، توپ یا طاقت سے زیادہ اثر ایک مسکراہٹ چھوڑ جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک مسکراہٹ حوا دروشم کے چہرے پر تھی۔ یہ مسکراہٹ کسی غفلت یا بے خبری کی علامت نہیں تھی بلکہ ایک گہرے شعور، پختہ یقین اور آزادی پر غیر متزلزل ایمان کا اظہار تھی۔ یہ مسکراہٹ اس بات کا اعلان تھی کہ جدوجہد صرف ہتھیاروں سے نہیں، حوصلے اور نظریے سے بھی لڑی جاتی ہے۔

حوا دروشم ان بے شمار عورتوں کی نمائندہ ہے جنہوں نے تحریکِ آزادی میں وہ کردار ادا کیا جسے اکثر تاریخ کے حاشیوں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ وہ کوئی افسانوی کردار نہیں تھی بلکہ اسی سماج کی بیٹی تھی جس نے غلامی کے طویل سائے دیکھے، ناانصافی کو جھیلا اور پھر اس کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس کے قدموں میں لرزش اس لیے نہیں تھی کہ وہ خوف سے ناواقف تھی، بلکہ اس لیے کہ اس نے خوف پر قابو پانا سیکھ لیا تھا۔

حوا دروشم کی شخصیت دراصل اس تربیت کا عکس تھی جو اسے اپنے گھر سے ملی۔ وہ گھر جہاں آزادی محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ ماں نے لوریوں میں قربانی کا مفہوم سمویا تھا اور باپ نے عمل سے یہ سکھایا تھا کہ حق کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ بہن بھائی یہ جانتے تھے کہ خاموشی کبھی کبھی جرم بن جاتی ہے۔ ایسے ہی گھروں میں اچھا کردار جنم لیتا ہے اور اچھا کردار ہی تحریکوں کی بنیاد بنتا ہے۔

جب تحریکِ آزادی نے پکارا تو حوا دروشم نے کوئی سوال نہیں اٹھایا۔ اس نے مسکراتے ہوئے اپنا فرض نبھایا۔ اس کی ہنسی نے ساتھیوں کے حوصلے بلند کیے اور مخالف قوتوں کو یہ پیغام دیا کہ عورت کو کمزور سمجھنے والی سوچ خود سب سے بڑی کمزوری ہے۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ جب مائیں اور بہنیں جدوجہد کا حصہ بن جائیں تو تحریک محض احتجاج نہیں رہتی، وہ عوامی طاقت میں بدل جاتی ہے۔

یہ مانا ہوا سچ ہے کہ ہر قربانی تحریک کو ایک قدم آگے بڑھاتی ہے، مگر کچھ قربانیاں تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہیں۔ حوا دروشم کی جدوجہد بھی ایسی ہی قربانی تھی۔ اس کی مسکراہٹ محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک سیاسی اعلان تھی کہ آزادی کو طاقت سے دبایا جا سکتا ہے، مگر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

آج کے حالات میں حوا دروشم کی مسکراہٹ ہمیں ایک کڑا سوال پوچھنے پر مجبور کرتی ہے۔ کیا ہم واقعی ان قربانیوں کے وارث بن پائے ہیں؟ کیا ہم نے آزادی کو صرف ایک دن کی تقریر اور چند نعروں تک محدود کر دیا ہے؟ سچ یہ ہے کہ جب تک ظلم کے خلاف اجتماعی مزاحمت زندہ ہے، آزادی کا خواب بھی زندہ ہے۔ اور جب ریاستی جبر، سیاسی مفادات اور خاموشی کو دانشمندی سمجھ لیا جائے تو غلامی نئی شکل میں واپس آ جاتی ہے۔

حوا دروشم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آزادی خیرات میں نہیں ملتی، اسے چھینا جاتا ہے۔ یہ جدوجہد صرف ماضی کا قصہ نہیں بلکہ حال کی ذمہ داری ہے۔ اس کی مسکراہٹ آج بھی ایک سوال ہے، ایک للکار ہے، کہ کیا ہم اس شمع کو جلائے رکھ سکیں گے یا اسے بجھنے دیں گے؟ کیونکہ تاریخ یہ واضح کر چکی ہے کہ جس قوم کی بیٹیاں مسکراتے ہوئے جدوجہد کریں، اسے وقتی طور پر دبایا تو جا سکتا ہے، مگر شکست نہیں دی جا سکتی۔

Share This Article