بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) کی اسیر رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے سیاسی ساتھی بیبرگ بلوچ، شاہ جی بلوچ، گلزادی بلوچ اور بیبو بلوچ کو غیرقانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے اور ان کے خلاف عدالتی کارروائی ریاستی دباؤ کے تحت چلائی جا رہی ہے۔
نادیہ بلوچ کے مطابق مارچ 2025 میں انہیں 3 ایم پی او (MPO) کے تحت گرفتار کیا گیا، جس کے بعد حکومت نے تین ماہ کے اندر 40 سے زائد مقدمات درج کیے۔ یہ مقدمات نوشکی، دالبندین، مکران، نصیرآباد، مستونگ، قلات اور خضدار سمیت مختلف اضلاع میں دائر کیے گئے، جہاں متعدد عدالتوں نے ضمانتیں منظور کیں اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھا۔
نادیہ بلوچ نے بتایا کہ کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) کے جج محمد علی مبین نے کئی مقدمات میں ضمانت منظور کی، تاہم بعد ازاں کچھ کیسز میں انہی ضمانتوں کو معطل کر دیا۔اس فیصلے کے خلاف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کی قانونی ٹیم نے بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جہاں چیف جسٹس کامران ملا خیل نے دو ماہ قبل فیصلہ محفوظ کیا تھا، لیکن تاحال فیصلہ سنایا نہیں گیا۔
نادیہ بلوچ کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کا عدالتی نظام ریاستی اداروں کے دباؤ میں ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھی گزشتہ چھ ماہ سے ہُدہ جیل میں جیل ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں کارروائی نہ تو شفاف ہے اور نہ ہی منصفانہ۔
نادیہ بلوچ کے مطابق وہی جج جو ضمانتیں معطل کر چکے ہیں، اب جیل ٹرائل کی نگرانی بھی کر رہے ہیں، جس سے غیرجانبداری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔قانونی ٹیم نے کیس کو کسی دوسرے جج کے سپرد کرنے کی درخواست کی، لیکن یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔
نادیہ بلوچ کے مطابق جج نے مزید دفعات شامل کرنے کی دھمکی بھی دی۔
نادیہ بلوچ نے کہا کہ یہ صورتحال نہ صرف انصاف سے انکار ہے بلکہ ان پرامن سیاسی کارکنوں کے لیے بھی خطرہ ہے جو اپنی قوم کی آواز بنے ہوئے ہیں۔