بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ، فوج کی شہری آبادیوں پر حملے اور اجتماعی سزاؤں کے خلاف جرمنی میں بی این ایم کا مظاہرہ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے جرمنی کے شہر ٹریئر میں واقع پورٹا نیگرا پلاٹس پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا، جس کا مقصد بلوچستان میں جاری منظم اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔

احتجاجی مظاہرے میں انسانی حقوق کے کارکنان اور بلوچ قوم کے حامیوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے بلوچستان کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، بلاجواز گرفتاریوں، سیاسی اختلاف رائے اور انسانی حقوق کے کارکنان کے خلاف ریاستی جبر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ مظاہرین نے کہا کہ یہ سب اقدامات پاکستانی ریاست کی جانب سے منظم طریقے سے کیے جا رہے ہیں۔

احتجاج کے دوران پلے کارڈز، بینرز اور تقاریر کے ذریعے عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا سے اپیل کی گئی کہ وہ بلوچستان کی صورتحال پر خاموشی توڑیں۔ مقررین نے کہا کہ دہائیوں سے جاری اور انسانی حقوق کی مستند پامالیوں کے باوجود بلوچ عوام کی تکالیف عالمی فورمز پر مسلسل نظرانداز کی جا رہی ہیں۔

اس موقع پر بی این ایم کے کارکنان نے جرمن اور انگریزی زبان میں پمفلٹس بھی تقسیم کیے۔

مظاہرے میں خواتین، بچوں اور جبری لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ پر ان مظالم کے گہرے اثرات کو اجاگر کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ جبری لاپتہ افراد کے خاندان، خصوصاً مائیں اور بچے، برسوں سے پُرامن جدوجہد کے ذریعے انصاف اور اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جنھیں انصاف کی بجائے اجتماعی سزا کا سامنا ہے۔

لقمان بلوچ، وجاہت بلوچ، آصف بلوچ، مجیب عبداللہ، شارق بلوچ اور حبیب بلوچ سمیت مقررین نے بلوچستان کے عوام کو درپیش جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور اجتماعی سزاؤں کی سخت مذمت کی۔

مقررین نے پاکستانی فوج کی کارروائیوں پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ پاکستانی فوج بلوچستان میں شہریوں کے خلاف طاقت استعمال کر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں گوادر، مستونگ اور کیچ میں درجنوں افراد کو براہِ راست فوج نے نشانہ بنا کر قتل کیا، جبکہ ڈرون حملوں میں بھی شہری مارے جا رہے ہیں۔ مظاہرین نے کہا کہ یہ حالات عالمی برادری پر ذمہ داری عائد کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کو دفاعی و اقتصادی امداد ، دفاعی شراکت داری اور ہتھیاروں کی فروخت جیسے معاملات پر نظرثانی کرے۔

مظاہرین نے اجتماعی سزا کی بدترین شکل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق اور سیاسی کارکنان کے اہلِ خانہ بھی جبری گمشدگیوں کا شکار ہیں۔ تازہ ترین مثال بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کے والد محمد بخش ساجدی، چچا نعیم ساجدی اور ماموں رفیق بلوچ کی جبری گمشدگیاں ہیں۔ مظاہرین کے مطابق یہ گرفتاریاں بی این ایم کے چیئرمین کو تحریک اور سیاسی سرگرمیوں سے دستبردار کروانے کے لیے کی گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر نسیم کا خاندان مسلسل پاکستانی جبر کا شکار رہا ہے۔ ان کے قریبی رشتہ دار سالوں تک جبری گمشدگیوں کا شکار رہے اور ان کے ایک رشتہ دار کو گھر میں گھس کر ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ حالیہ دنوں میں بی این ایم کے دیگر رہنما اور کارکنان کے اہلِ خانہ کو بھی ہراساں کیا گیا ہے۔

مقررین نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بی این ایم کے رہنما اور کارکنان پاکستانی فوج کے ان ہتھکنڈوں سے ہرگز مرعوب نہیں ہوں گے۔

انہوں نے معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بلوچستان میں اجتماعی سزا صرف بلوچ سیاسی کارکنان کے لواحقین تک محدود نہیں بلکہ ان کے وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنان کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو اس لیے پابند سلاسل رکھا گیا کہ وہ بلوچستان میں ہونے والے مظالم پر بات کرتے اور جبری گمشدہ افراد کے کیسز کی وکالت کرتے ہیں۔

مظاہرین نے اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہراویں۔

Share This Article