بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) نے بلوچستان میں ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور اجتماعی سزا کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے دو واقعات وشبود، پنجگور کے نوجوان مزدور ملنگ بلوچ اور مستونگ کے نوجوان درزی یاسر لہڑی کے قتل بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی واضح مثال ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مستونگ میں نوجوان بلوچ درزی یاسر لہڑی کے دن دہاڑے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بلوچستان میں جاری ماورائے عدالت ہلاکتوں اور اجتماعی سزا کے تسلسل کا حصہ قرار دیا ہے۔ یاسر لہڑی، جو محمد حنیف لہڑی کے بیٹے اور پیشے کے اعتبار سے درزی تھے، کو ایسے عناصر نے قتل کیا جو مکمل اختیار اور عدم احتساب کے ماحول میں کارروائیاں انجام دیتے ہیں۔
بی وائی سی کے مطابق بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہیں اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب بلوچ عوام کو نشانہ نہ بنایا جاتا ہو۔ تنظیم نے کہا کہ ریاستی جبر نے بلوچستان کو اس کے باسیوں کے لیے ایک زندہ جہنم میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں خوف کو دانستہ طور پر پھیلایا جاتا ہے اور لوگ مستقل عدم تحفظ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ صرف ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ پورے خاندانوں کی تباہی ہے۔ متاثرہ خاندانوں پر پڑنے والا نفسیاتی صدمہ ناقابلِ بیان ہے۔بی وائی سی نے سوال اٹھایا کہ جب ریاستی ادارے خود قانون شکنی میں ملوث ہوں تو متاثرین انصاف کے لیے کس دروازے پر جائیں۔
تنظیم نے اس غیرانسانی عمل کی بھی مذمت کی کہ یاسر لہڑی کی میت ان کے اہلِ خانہ کے حوالے نہیں کی گئی، جس سے انہیں اپنے پیارے کی آخری رسومات ادا کرنے کے بنیادی حق سے محروم کر دیا گیا۔
بی وائی سی کے مطابق میت کی عدم حوالگی چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 33 کی خلاف ورزی ہے، جو اجتماعی سزا اور خوف و دھمکی کے تمام اقدامات کو غیرقانونی قرار دیتا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے عالمی انسانی حقوق تنظیموں سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ پاکستانی ریاست سے جواب طلب کریں، بلوچستان میں جاری ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور اجتماعی سزا کے واقعات پر سنجیدہ نوٹس لیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
اسی طرح بلوچ یکجہتی کمیٹی نے 20 سالہ نوجوان مزدور ملنگ بلوچ کی جبری گمشدگی اور بعد ازاں ماورائے عدالت قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی جبر کی مسلسل بڑھتی ہوئی لہر کا حصہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملنگ بلوچ، جو زاہد ندیم کے بیٹے اور محنت مزدوری کے ذریعے روزگار کمانے والے ایک عام نوجوان تھے، کو علاقے میں سرگرم ریاستی پشت پناہی والے ڈیتھ اسکواڈ نے حراست میں لینے کے بعد قتل کر دیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں احتساب کا کوئی مؤثر نظام باقی نہیں رہا اور ریاستی اداروں کے ہاتھوں ہونے والی سنگین خلاف ورزیاں بغیر کسی سوال یا کارروائی کے جاری ہیں۔
بی وائی سی کے مطابق یہ واقعات کسی انفرادی نوعیت کے نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد خوف، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے ذریعے بلوچ عوام کو دبانا ہے۔
تنظیم نے کہا کہ بلوچستان کو ایک مکمل طور پر عسکریت زدہ خطے میں بدل دیا گیا ہے جہاں خوف، دھمکی اور تشدد کو حکمرانی کے اوزار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
بی وائی سی کے مطابق ملنگ بلوچ کا قتل بین الاقوامی میثاق برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) کی شق 6 کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو ہر انسان کے بنیادی حقِ زندگی کی ضمانت دیتی ہے اور کسی بھی شخص کی من مانی طور پر جان لینے کو سختی سے ممنوع قرار دیتی ہے۔ جبری گمشدگی کے بعد ماورائے عدالت قتل کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین ترین خلاف ورزیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
تنظیم نے عالمی برادری کی مسلسل خاموشی اور عدم دلچسپی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا، جس کے باعث ایسے جرائم کے مرتکب عناصر کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے جبکہ بلوچ خاندان انصاف، سچائی اور جوابدہی سے محروم رہ گئے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ ملنگ بلوچ کے قتل سمیت بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔