ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو ’ہمارے پاس امریکی سرزمین پر حملہ کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے، لہذا مجبوراً ہمیں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا پڑے گا۔ بدقسمتی سے امریکی فوجی اڈے خطے کے مختلف مقامات پر موجود ہیں۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’فی الحال امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے‘ لیکن دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ یہ مذاکرات جلد از جلد ہونے چاہییں۔
عباس عراقچی نے اس گفتگو کے کچھ حصے اپنے ذاتی ٹیلی گرام چینل پر شائع کرتے ہوئے لکھا: ’اب جنگ کے لیے ہماری تیاری اُس 12 روزہ جنگ سے بھی زیادہ ہے، بالکل اسی طرح سفارت کاری کے لیے ہماری تیاری بھی اُس وقت سے زیادہ ہے۔ ہم نے سفارت کاری کو منتخب کیا ہے اور امید کرتے ہیں کہ امریکہ بھی ایسا ہی کرے گا۔‘
عباس عراقچی جون 2025 میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی 12 روزہ جنگ کا حوالہ دے رہے تھے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ یورینیئم کی افزودگی مکمل بند کر دینا ایران کے نزدیک ’مذاکرات کے دائرے سے باہر‘ ہے لیکن ساتھ ہی اُنھوں نے کہا: ’ہم دوسرے فریق کو یقین دلاتے ہیں کہ ایران میں یورینیئم کی افزودگی پر امن مقاصد کے لیے ہے۔‘
اُنھوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ کہ ایران کا میزائل پروگرام ایک ’دفاعی معاملہ‘ ہے اور اس پر بات چیت کا کوئی امکان نہیں، ’نہ اب اور نہ مستقبل میں۔‘