نوشکی میں نافذ کرفیو سے عوام شدید مشکلات کا شکار

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں گزشتہ ہفتے پیش آنے والے مسلح تصادم کے بعد نافذ کرفیو نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔

عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کرفیو کے اوقات میں نرمی یا تبدیلی کی جائے تاکہ مزدوروں، طلباء، مریضوں اور ملازمین کو سہولت مل سکے۔

نوشکی میں کرفیو شام پانچ بجے سے صبح نو بجے تک نافذ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ کرفیو کے دوران سیکیورٹی فورسز کی باقاعدہ گشت یا چوکیاں نظر نہیں آتیں، لیکن شہری شام پانچ بجے ہی کاروبار بند کرکے گھروں میں محصور ہو جاتے ہیں۔

رواں ہفتے نوشکی میں اس وقت صورتحال کشیدہ ہوئی جب بلوچ عسکریت پسندوں نے پاکستان آرمی کیمپ سمیت متعدد سرکاری تنصیبات پر حملہ کرکے کچھ مقامات پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

عسکریت پسندوں اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپیں ایک ہفتے تک جاری رہیں جن میں فدائی حملہ آور بھی شامل تھے۔ عسکریت پسندوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے درجن سے زائد اہلکار ہلاک کیے اور سرکاری تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچایا۔

6 فروری کو عسکریت پسندوں نے اپنی کارروائیوں کے اختتام کا اعلان کیا، جس کے بعد حکومتی فورسز نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا اور کرفیو نافذ کر دیا۔

اس سے قبل پورا شہر ایک ہفتے تک مکمل طور پر بند رہا اور لوگ گھروں تک محدود رہے۔

کرفیو کے طویل اوقات نے مختلف طبقات کو متاثر کیا ہے۔جس میں طلباء میٹرک امتحانات کے دوران امتحانی مراکز تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا کر رہے ہیں۔ دیہاڑی دار مزدوروں کی آمدنی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ میڈیکل اسٹورز اور ہسپتالوں کی بندش سے مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ اور کاروباری سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو چکی ہیں۔

عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کرفیو کے اوقات پر نظرثانی کی جائے تاکہ معمولاتِ زندگی کسی حد تک بحال ہو سکیں۔

Share This Article