سال 2025 : بلوچستان میں 225 افراد ماورائے عدالت قتل ، 1355 جبری لاپتہ کئے گئے، پانک

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے انسانی حقوق کے ادارے پانک نے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے۔ پانک کی سالانہ انسانی حقوق رپورٹ کے مطابق، 2025 میں بلوچستان میں پاکستانی فوج نے 225 افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا جبکہ 1355 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، جو ریاستی سطح پر منظم مظالم کی عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی فوج، انٹیلیجنس ادارے اور فرنٹیئر کور طلباء، کارکنان اور مقامی دانشوروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ڈرون حملے، ہیلی کاپٹر کی گن شپ کارروائیاں اور ’’ مارو اور پھینک دو‘‘ کی پالیسی معمول بن گئی ہیں، جبکہ اینٹی ٹیررازم قوانین اور مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس (تھری ایم پی او) کو پرامن شہری تحریکوں، جیسے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی)، کو مجرم ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہ وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بلوچ عوام کے خلاف ریاستی اجتماعی سزا کی ایک واضح پالیسی کی عکاسی کرتی ہیں۔

پانک کی رپورٹ بلوچ قوم کے خلاف ریاستی جبر میں شدت کو اجاگر کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستانی فوج صرف محدود سطح کی روایتی کارروائیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ شہریوں کے خلاف مکمل فوجی طاقت کا استعمال کر رہی ہے، جس میں فضائی حملے بھی شامل ہیں۔ 2025 کے پہلے نصف حصے میں سب سے زیادہ 785 جبری گمشدگیوں کی تصدیق ہوئی، جو بڑھتی ہوئی پرامن سیاسی سرگرمیوں کو روکنے اور قیادت کو دبانے کی ریاستی پالیسیوں کا نتیجہ تھیں۔ سال کے بعد کے مہینوں میں گمشدگیوں کی تعداد کم ہوئی، لیکن ماورائے عدالت قتل میں اضافہ دیکھا گیا۔ 407 جبری لاپتہ افراد کو تشدد اور خفیہ ٹارچر سیلز میں قید کرنے کے بعد رہا کیا گیا، جن میں سے اکثر جسمانی اور ذہنی طور پر شدید متاثر ہوئے، جس سے ریاستی دہشت گردی ثابت ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طلباء اور نوجوان پیشہ ور افراد پر حملے بلوچ معاشرے کی علمی اور سیاسی قیادت کو ختم کرنے کی پاکستان کی حکمت عملی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

رپورٹ میں سال کے چیدہ واقعات بھی درج ہیں ۔ جن میں بلیدہ میں ڈرون حملہ (29 اکتوبر) شامل ہے، جس میں پکنک مناتے ہوئے چار نوجوان فوجی اجازت نامہ کے باوجود قتل ہوئے، زھری فضائی بمباری (17 ستمبر) جس میں تین عام شہری ہلاک اور ایک بچہ زخمی ہوا، اور چلتن کے پہاڑی مقام پر حملہ (28 اکتوبر) جس میں کئی نوعمر نوجوان شدید زخمی ہوئے۔ یہ واقعات بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی بار بار خلاف ورزی کو ظاہر کرتے ہیں۔سال 2025 میں ماورائے عدالت قتل ہونے والوں 225 افراد میں ذیشان ظہیر (جون میں جبری طور پر گمشدہ اور تشدد کے بعد ہلاک)، عثمان مقبول (گمشدگی کے دو دن بعد قتل)، اور خلیل احمد (دسمبر میں پولیس افسر ہونے کے باوجود قتل) شامل ہیں۔

رپورٹ میں قانون کے غلط اور ریاستی دہشت گردی کے طور پر وسیع استعمال کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جو آواز اٹھانے والوں کو دبانے کے لیے ریاست کا آزمودہ حربہ ہے۔ معروف بی وائی سی کارکنان، بشمول ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ ، بیبگر، بیبو اور گلزادی کو تھری ایم پی او اور اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے تحت بلا جواز حراست میں لیا گیا، اکثر گرفتاریاں کالا قانون تھری ایم پی او کے 90 دن کی قانونی حد سے بھی تجاوز کر گئی ہیں۔ 32 کارکنان کو اینٹی ٹیررازم ایکٹ کی فورتھ شیڈول میں شامل کرکے ان کے نقل و حرکت کے حقوق سلب کیے گئے۔ پاکستان نے شہری حقوق کو سلب کرنے کے عمل میں تیزی پیدا کی ہے، جس میں شناختی کارڈ بلاک کرنا، سم کارڈ مسدود کرنا، سفر سے روکنا اور بینک اکاؤنٹس بند کرنا شامل ہیں۔

پانک نے بین الاقوامی برادری کو متوجہ کیا کہ وسائل کے باوجود بلوچستان کی مقامی آبادی سب سے زیادہ محرومیوں کا شکار ہے۔ ریکو ڈک، سینڈک، اور گوادر پورٹ جیسے منصوبے بلوچستان کے وسائل استعمال کر رہے ہیں، جبکہ مقامی لوگوں کو بنیادی حقوق کے مطالبے پر فوجی دباؤ اور مظالم کے ذریعے کچل دیا جاتا ہے۔ یورپی یونین کی جی ایس پی پلس مانیٹرنگ مشن نے 2025 میں جبری گمشدگیوں، اظہار رائے کی آزادی اور اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے غلط استعمال پر تشویش ظاہر کی، جو بلوچستان میں انسانی حقوق کی خراب صورتحال کی تصدیق ہے۔

پانک نے اپنی 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ میں سال 2025 میں پاکستانی ریاستی اداروں کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا دستاویزی شکل میں پیش کیا ہے۔

پانک نے جبری گمشدگیوں کے خاتمے، ماورائے عدالت قتل کو روکنے، شہریوں پر فضائی حملے بند کرنے، جابرانہ قوانین ختم کرنے، اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی مداخلت کے بغیر بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی اور یہ دنیا بھر میں آمرانہ حکومتوں کے لیے خطرناک مثال قائم ہوگی۔

Share This Article