سینئر صحافی اور تجزیہ کار رفیع اللہ کاکڑ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے نجی ٹیلی وژن چینلز پر بطور مبصر ان کی شرکت پر باضابطہ پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
انہوں نے یہ بات سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہی، جس میں ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ ماضی میں بھی محدود طور پر ٹی وی پروگراموں میں مدعو کیے جاتے تھے، تاہم جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد ان پر ایک غیر اعلانیہ پابندی عائد تھی جو اب باقاعدہ صورت اختیار کر چکی ہے۔
رفیع اللہ کاکڑ کے مطابق ایک ایسے نجی ٹی وی چینل، جہاں وہ ماضی میں مباحثوں میں شریک ہوتے رہے، نے انہیں باقاعدہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ آئندہ انہیں کسی بھی پروگرام میں شامل نہیں کیا جا سکے گا۔ ان کے بقول یہ پیش رفت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ مرکزی دھارے کے میڈیا میں اختلافی اور آزاد آوازوں کے لیے گنجائش مسلسل محدود ہوتی جا رہی ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جب مکالمے کی جگہ یکسانیت لے لے اور تنقید کو بددیانتی یا غداری کے مترادف سمجھا جانے لگے تو عوامی مباحثہ کمزور ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات اختلافِ رائے کو دبانے کا تاثر دیتے ہیں، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔
رفیع اللہ کاکڑ نے واضح کیا کہ ٹی وی اسکرین سے دوری انہیں خاموش نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق اظہارِ رائے کسی ایک پلیٹ فارم کا محتاج نہیں اور وہ سوشل میڈیا، پوڈکاسٹس اور عوامی فورمز کے ذریعے مدلل اور شواہد پر مبنی گفتگو جاری رکھیں گے۔
انہوں نے خصوصاً بلوچستان کے تناظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے خطوں میں، جہاں پہلے ہی بداعتمادی کے احساسات موجود ہوں، مکالمے کی گنجائش کو محدود کرنا مرکز اور اکائیوں کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقی آوازوں کو خاموش کرنا مسائل کا حل نہیں بلکہ اس سے بداعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔
بیان کے اختتام پر رفیع اللہ کاکڑ نے کہا کہ تعمیری تنقید ریاستوں کو مضبوط بناتی ہے، جبکہ اسے دبانا ریاستی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں مکمل میڈیا بلیک آئوٹ ہے اور مقامی میڈیا ہائوٹ لک کی نشریات پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے جس سے بلوچستان کی حقیقی صورتحال تک رسائی کو روکا جارہا ہے۔اور جو حقائق کو سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں انہیں ریاستی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتاہے۔