اپوزیشن اتحاد کی جانب سے آج کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی شہروں میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال رہی ۔
ہڑتال کے باعث انٹرنیٹ سروس مکمل بند کردی گئی جبکہ انتظامیہ نے کریک ڈائون کرکے 76 سیاسی کارکان کو گرفتار کر لیا ہے ۔
ہڑتال کی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے خلاف دے رکھی تھی۔
ہڑتال سے کوئٹہ شہر میں تمام بڑے کاروباری مراکز بند اور جبکہ شہر میں سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر رہی ۔
ہڑتال کو ناکام بنانے کے لئے شہر کے کئی علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے کارکن ایئرپورٹ روڈ اور کوئٹہ شہر کے دونوں بائی پاسز پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے علاوہ ٹائر جلاتے رہے تاہم پولیس اہلکاروں کی جانب سے ٹریفک بحال کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔
خیال رہے کہ کوئٹہ شہر میں دکان دار جمعہ کے روز چھٹی کرتے ہیں اور اتوار کو دکانیں کھلی ہوتی ہیں۔
پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے، اس کی خلاف ورزی کرنے پر مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
زیارت، پشین اور ژوب سمیت بلوچستان کے کئی دیگر شہروں میں بھی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری ہے۔
ہڑتال کے باعث کوئٹہ اور اندرون بلوچستان موبائل انٹرنیٹ ایک بار پھر بند کردی گئی ۔
دوسری جانب محکمہ داخلہ کے مطابق کوئٹہ میں امن و امان میں خلل ڈالنے کے الزام میں 76 سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ گرفتار کارکنوں کو مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں زبردستی سڑکیں بند کرنے پر عمل میں لائی گئیں، گرفتار افراد میں 60 کا تعلق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، 14 کا پاکستان تحریکِ انصاف جبکہ 2 کارکن جمعیت علمائے اسلام سے ہیں۔
یاد رہے کہ ہڑتال کی کال آنے کے بعدحکومت بلوچستان کی جانب سے کوئٹہ میں 144 کے نفاذ کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس کے باجود اپوزیشن نے کامیاب شٹراڈائون اور پہیہ جام ہڑتا ل کیا۔