پاکستان نے معدنیات سے مالا مال بلوچستان اور ایران و افغانستان سے ملنے والی سرحدوں کی حفاظت کے لیے انٹیلی جنس نیٹ ورک مضبوط کرنے اور ایک خصوصی سیکورٹی فورس قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
بلوچستان حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ہفتے کے روز اس بات کی تصدیق کی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب بلوچستان کے 14 شہروں پر بلوچ عسکریت پسندوں نے حملہ کرکے کنٹرول سنبھالا تھا بعد ازاں کینیڈا کی بڑی مائننگ کمپنی بیریک گولڈ نے بلوچستان میں واقع اربوں ڈالر کے ریکو ڈک تانبہ و سونا منصوبے کے تمام پہلوؤں کا فوری طور پر ازسرِنو جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
کٹھ پتلی وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے معاون شاہد رند نے عرب نیوز کو بتایا کہ حالیہ عسکریت پسندی کے واقعات کے بعد بلوچستان حکومت اور سیکورٹی ادارے مل کر سیکورٹی نظام کو ازسرِنو ترتیب دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ”اس منصوبے کے تحت معدنی علاقوں کے لیے خصوصی فرنٹیئر کور تشکیل دی جائے گی اور ایران و افغانستان سے ملنے والی سرحدوں کو محفوظ بنایا جائے گا۔“
بلوچستان حکومت انٹیلی جنس نظام کو مزید موثر بنانے اور مائننگ کمپنیوں کے ساتھ قریبی تعاون بھی کرے گی۔
شاہد رند کے مطابق حکومت بلوچستان غیر ملکی سرمایہ کاری کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور ریکو ڈک منصوبے کو بلوچستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا علمبردار سمجھتی ہے۔
بیریک گولڈ کے ترجمان نے عرب نیوز کو بتایا کہ کمپنی ریکو ڈک منصوبے کی سیکورٹی، ترقیاتی شیڈول اور سرمایہ جاتی اخراجات سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے، جس کا آغاز فوری طور پر کیا جاچکا ہے۔